پروفیسر سید غلام مصطفیٰ شاہ مثالی شخصیت کے مالک تھے، ڈاکٹر سرفراز حسین سولنگی

سیمینار سے ڈاکٹر سید مہتاب علی شاہ، نصیر مرزا، ڈاکٹر محمود مغل، نفیس احمد شیخ، ڈاکٹر شجاع احمد مہیسر اور ڈاکٹر عرفان احمد شیخ نے بھی خطاب کیا

جامعہ سندھ جامشورو کے سابقہ وائس چانسلر، سابقہ وفاقی وزیر تعلیم، ہمہ گیر شخصیت کے مالک پروفیسر سید غلام مصطفی شاہ کی برسی کے موقع پر انہیں خراج تحسین پیش کرنے کیلئے جامعہ سندھ کے پاکستان اسٹڈی سینٹر اور شعبہ تاریخ کی جانب سے ایک اہم سیمینار منعقد کیا گیا۔ وائس چانسلر سیکریٹریٹ کے سینیٹ میں منعقد کی گئی تقریب کی صدارت شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد برفت کی کراچی میں آفیشل مصروفیات کی وجہ سے ان کی جانب سے نامزد کیے گئے فوکل پرسن جامعہ سندھ ٹھٹھہ کیمپس پروفیسر ڈاکٹر سرفراز حسین سولنگی نے کی، جبکہ تقریب کے خصوصی مقررین میں نامور مصنفین، محققین و ادیب پروفیسر ڈاکٹر سید مہتاب علی شاہ، نصیر مرزا، ڈاکٹر محمودالحسن مغل اور نفیس احمد شیخ شامل تھے۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر سرفراز حسین سولنگی نے اپنے خطاب کے آغاز میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد برفت کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا، جنہوں نے آفیشل مصروفیات کی وجہ سے اس اہم تقریب کی صدارت کرنے کا انہیں موقع فراہم کیا۔ ڈاکٹر سولنگی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پروفیسر سید غلام مصطفی شاہ کی علمی، ادبی، تحقیقی و سماجی حوالے سے کئی خدمات ہیں۔ جامعہ سندھ کے وائس چانسلر کی حیثیت میں اور تعلیم کے وفاقی وزیر کی حیثیت میں انہوں نے تدریس و تحقیق کے فروغ کیلئے مثالی کردار ادا کیا۔ ان کے دور میں یونیورسٹی میں کئی شعبوں کی خوبصورت عمارتیں تعمیر ہوئیں، وہ ہر وقت کام کرنے پر یقین رکھتے تھے، وہ ہمیشہ نوجوانوں کو حوصلہ دیتے تھے اور انہیں محنت کرنے کی تلقین کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی عظیم شخصیات کو یاد کرنا اور انہیں خراج تحسین پیش کرنا ہم پر فرض بنتا ہے۔ قبل ازیں ڈائریکٹر پاکستان اسٹڈی سینٹر ڈاکٹر شجاع احمد مہیسر نے اپنے استقبالیہ خطاب میں تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد برفت کے تعاون، رہنمائی و ہمت افزائی کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج کا پروگرام وائس چانسلر کی خصوصی ہدایات پر منعقد کیا گیا ہے، جس کا مقصد جامعہ سندھ کے سابقہ وائس چانسلر اور تعلیم و تحقیق کے میدان میںمثالی خدمات سرانجام دینے والی شخصیت پروفیسر سید غلام مصطفی شاہ کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک و قوم کی فلاح و بہبود کیلئے خدمات سرانجام دینے والی شخصیات کو یاد کرنا ہمارا فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر سید غلام مصطفی شاہ معیاری تعلیم پر یقین رکھتے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ معیاری تعلیم کے بغیر کوئی بھی ملک یا قوم ترقی نہیں کر سکتے۔ انہوں نے جامعہ سندھ کی تعلیمی و تحقیقی معیار کو فروغ دینے میں اپنا بھرپور کردار کیا۔ نامور محقق و مصنف پروفیسر ڈاکٹر سید مہتاب علی شاہ نے کہا کہ پروفیسر سید غلام مصطفی شاہ ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ وہ 20ویں صدی کے عظیم تعلیمدان تھے، جنہوں نے تعلیم کے فروغ کیلئے اپنا نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کے وائس چانسلر شپ کے دور کو جامعہ سندھ کا مثالی دور مانا جاتا ہے، جس میں آرٹس فیکلٹی بلڈنگ، سینٹرل لائبرری، سندھیالوجی، پروفیسر سید غلام مصطفی شاہ ایڈمنسٹریشن بلڈنگ (اے سی ٹو) سمیت اہم عمارتیں تعمیر ہوئیں۔ ان کی شخصیت وضع دار تھی۔ انہوں نے ہمیشہ محنت و جدوجہد پر یقین رکھا۔ نامور ادیب و براڈ کاسٹر نصیر مرزا نے کہا کہ پروفیسر سید غلام مصطفی شاہ مثالی شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی ملک و قوم کی خدمت کیلئے وقف کردی۔ وہ اپنی ذات میں انجمن تھے، جنہوں نے بہت سارے اداروں کی بنیاد ڈالی، وہ برصغیر کے عظیم تعلیمدان تھے۔ نامور مصنف و محقق نفیس احمد شیخ نے کہا کہ شاہ صاحب کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں۔ وہ بہترین تعلیمدان، بہترین منتظم، بہترین مقرر، بہترین مصنف اور بہترین سیاستدان تھے۔ جامعہ سندھ میں مثالی خدمات سرانجام دینے کے علاوہ انہوں نے سندھی ادبی بورڈ کی بنیاد ڈالنے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ نامور مصنف اور جامعہ سندھ کے استاد ڈاکٹر محمود الحسن مغل نے کہا کہ پروفیسر سید غلام مصطفی شاہ کی شخصیت روشن چراغ کی طرحہ تھے، جنہوں نے ہر سو علم کی روشنی پھیلائی۔ ان کی شفیق شخصیت و کردار آج بھی ہمارے ذہنوں پر منقش ہے۔ تقریب کے آخر میں شعبہ تاریخ کے چیئرمین ڈاکٹر عرفان احمد شیخ نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب میں ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر زرین عباسی ڈائریکٹر سینٹر آف ایکسیلنس ان اینالیٹیکل کیمسٹری پروفیسر ڈاکٹر شہاب الدین میمن سمیت جامعہ کے اساتذہ، طلباءو طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض پاکستان اسٹڈی سینٹر کے طالب علم صبیح سبحان قریشی اور طالبہ ریما سیال نے سرانجام دیئے۔