شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر ڈاکٹر محمد صدیق کلہوڑو کی زیر صدارت پرو وائس چانسلرز، ڈینز، و دیگر تعلیمی و انتظامی سربراہان کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر میں کرونا وائرس کی صورتحال و جامعہ میں کلاسز نومبر 2020 سے چلائے جانے سے متعلق تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں جامعہ سندھ کو دو نومبر سے کھولنے پر اتفاق کیا گیا تاہم کرونا سے بچنے کے لیے طلباء کو 15-15 روز میں دو گروپوں میں بلائے جانے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ فیصلے کے تحت بیچلرس پروگرام کے تمام 57 ڈپارٹمنٹ کے سیکنڈ اور تھرڈ ایئرز کے طلباء کو پہلے 15 روز کے لیے بلائے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ فرسٹ اور فائنل ایئرز کے طالب العلم اگلے 15 روز میں کلاسز کے لیے جامعہ آ سکیں گے۔ اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ نومبر، دسمبر و جنوری کے دوران جاری رہنے والے سیکنڈ سیمسٹر کی کلاسز کے دوران ہفتہ کو بھی جامعہ سندھ کھلی رہے گی، ورکنگ آورز بھی بڑھائے جائیں گے۔ اجلاس میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر تمام 28 ہزار طلباء کو بیک وقت جامعہ طلب نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہائوس میں اتفاق ہوا کہ کلاسز میں طلباء و اساتذہ کے لیے ماسک پہننا لازمی ہوگا، کلاسز میں جانے سے قبل ٹیمپریچر بھی چیک کیا جائے گا، سینیٹائزر کا استعمال بھی ضروری ہوگا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر ڈاکٹر محمد صدیق کلہوڑو نے کہا کہ جامعہ سندھ میں کلاسز چلانے کا فیصلہ طلباء کے مفاد کیا گیا ہے، تمام اسٹیک ہولڈرز ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاسٹلز میں کینٹین چلانے والوں کو سختی سے صفائی برقرار رکھنے کی بھی ہدایات دی گئی ہیں۔