جامعہ سندھ کو مالی بحرانوں سے نکالنے کیلئے سادگی تدابیر پر عملی اقدامات کا آغاز: وائس چانسلر، رجسٹرار سمیت تمام تعلیمی و انتظامی حکام کی گاڑیوں کے تیل کی مقررہ حد میں کمی لائی گئی: پی وی سیز، ڈینز، سینڈیکیٹ اراکین و انتظامی سربراہوں نے متفقہ طور پر اتفاق کر لیا، ڈاکٹر کلہوڑو کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار، سادگی تدابیر لینے کے اقدام کی تعریف

جامعہ سندھ کے قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد صدیق کلہوڑو کی زیر صدارت پرو وائس چانسلرز، ڈینز، سینڈیکیٹ اراکین و انتظامی حکام کا ایک اہم اجلاس وائس چانسلر کی آفس میں منعقد ہوا، جس میں یونیورسٹی کو مالی بحران سے نکالنے کیلئے سادگی کے تدابیر کو عملی جامو پہناتے ہوئے پہلے مرحلے میں رضاکارانہ طور مختلف گاڑیوں پر مختص تیل کی حد میں کمی لائی گئی، جس سے یونیورسٹی کو ماہوار لاکھوں روپے کا فائدہ ہو سکے گا۔ شیخ الجامعہ سندھ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں ٹھٹھہ کیمپس کے پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد میمن، سوشل سائنسز فیکلٹی کی ڈین پروفیسر ڈاکٹر زرین عباسی، نیچرل سائنس فیکلٹی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر عبدالرسول عباسی، کامرس اینڈ بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈین پروفیسر ڈاکٹر جاوید چانڈیو، انجنیئرنگ فیکلٹی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر خلیل احمد کھنبھاٹی، ایجوکیشن فیکلٹی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر صالحہ پروین، سینڈیکیٹ اراکین ڈاکٹر رفیق لاشاری، ڈاکٹر جمشید چانڈیو، اسداللہ بلیدی، رجسٹرار غلام محمدبھٹو، ڈائریکٹر فنانس سید زین العابدین شاہ، پلاننگ اینڈ ڈولپمنٹ سیل کے ایڈوائزر ساجد قیوم میمن، سیمسٹر امتحانات کے کنٹرولرمحمد معشوق صدیقی اور سالانہ امتحانات کے کنٹرولر غلام مرتضیٰ سیال نے شرکت کی۔ اجلاس میں یونیورسٹی کی مالی حالات پر تفصیلی غور کرنے اور وائس چانسلر کی جانب سے سادگی تدابیر اختیار کرنے کی تجویز کے بعد تمام شرکاء نے رضاکارانہ طور پر پیٹرول کی حد کم کرنے کا فیصلہ کیا۔اس موقع پر اجلاس میں بتایا گیا کہ پیٹرول اور ڈیزل کا استعمال کم کرنے سے یونیورسٹی کو موجودہ مالی بحران سے نکال کر اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں مدد ملے گی۔ اجلاس میں وی سی پول میں موجود 7 سے زائد گاڑیوں کو کسی بھی لمٹ (حد) کے بغیر ملنے والے پیٹرول کو صرف ضرورت کے تحت پیٹرول دینے پر رضامندی ظاہر کی گئی۔ اس موقع پر تمام اراکین نے وائس چانسلر ڈاکٹر کلہوڑو کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے یونیورسٹی کی مالی بہتری کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کو سراہا گیا اور اس میں شیخ الجامعہ کومکمل تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔