سندھ یونیورسٹی کے شعبۂ نفسیات کی جانب سے ذہنی صحت کا عالمی دن منایا گیا، آگاہی کیمپ کا انعقاد، وائس چانسلر نے افتتاح اور طلبہ کے پروجیکٹس کا معائنہ کیا
سندھ یونیورسٹی کے شعبۂ نفسیات کی جانب سے ذہنی صحت کا عالمی دن منایا گیا۔ اس موقع پر شعبے کی جانب سے ’’لوگوں کی بات سنیں، ان کے تجربات کو سمجھیں اور مثبت تبدیلی لائیں‘‘ کے موضوع پر ایک آگاہی کیمپ منعقد کیا گیا۔
سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری (تمغه امتياز) نے خصوصی مہمان کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے کیمپ کا افتتاح کیا اور شعبۂ نفسیات کے طلباء کی جانب سے ذہنی صحت کے موضوع پر تیار کیے گئے پوسٹرز اور ویڈیو پروجیکٹس کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر طلباء نے وائس چانسلر کو اپنے پروجیکٹس کے حوالے سے پریزنٹیشن بھی دی، جسے سراہتے ہوئے انہوں نے ان کی کاوشوں کی تعریف کی۔
طلباء نے اپنے پروجیکٹس میں باہمی رابطے کی اہمیت، خود کو تنہا رکھنے کے نقصانات، مزاج میں آنے والی تبدیلیوں، ذہنی دباؤ، بے چینی، نیند اور بھوک کے مسائل، ان کے صحت پر اثرات، بلاوجہ پریشان ہونے سے بچنے، والدین کے مالی مسائل اور ان کی ذہنی پریشانیوں کی وجوہات، خاندان کو جوڑنے، اعتماد کو مضبوط بنانے اور صحت مند سوچ کو فروغ دینے سمیت ذہنی صحت سے متعلق اور اس پر اثرانداز ہونے والے مختلف موضوعات کو اجاگر کیا۔
اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے جسمانی صحت کے ساتھ ذہنی صحت بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ذہنی صحت کا عالمی دن منانے کا مقصد اس حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے تاکہ لوگ ذہنی صحت سے متعلق مسائل اور پیچیدگیوں کو سمجھ سکیں، ان کا حل تلاش کر سکیں اور ایک دوسرے کی مدد کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کا کام صرف معیاری تعلیم فراہم کرنا نہیں بلکہ ایسی سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ کی ذہنی، جذباتی اور سماجی نشوونما کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا بھی ہے۔ طلبہ کی تعلیمی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں ذہنی دباؤ سے نمٹنے، مثبت سوچ اپنانے اور پرسکون رہنے کے لیے مناسب رہنمائی فراہم کی جائے۔
وائس چانسلر نے کہا کہ زندگی میں پیش آنے والے مختلف اچانک حادثات اور دیگر مسائل انسانی ذہن پر اثرانداز ہوتے ہیں، جو ایک فطری بات ہے، تاہم صبر، حوصلے، کوشش، مناسب رہنمائی اور حوصلہ افزائی کے ذریعے ان کے منفی اثرات کی شدت کو کم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی صحت کے حوالے سے معاشرتی غلط فہمیوں اور منفی رویوں کا خاتمہ ضروری ہے تاکہ ذہنی مسائل کا سامنا کرنے والے افراد خود کو تنہا محسوس نہ کریں اور گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں۔
وائس چانسلر نے کہا کہ شعبۂ نفسیات یونیورسٹی کا ایک انتہائی اہم شعبہ ہے، جو ذہنی صحت کے فروغ اور اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنے میں بھرپور کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے بہترین پروگرام منعقد کرنے پر شعبے کی چیئرپرسن اور ان کی ٹیم کو مبارک باد بھی دی۔ اس موقع پر شعبۂ نفسیات کی چیئرپرسن ڈاکٹر منزہ ملک نے وائس چانسلر کی شرکت، رہنمائی اور حوصلہ افزائی پر ان کا شکریہ ادا کیا اور پروگرام کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔
تقریب میں فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر نانک رام، کنٹرولر سالانہ امتحانات محمد معشوق صدیقی، شعبے کے اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
- -