سندھ یونیورسٹی میں یومِ آزادی کی تقریبات کا سلسلہ جاری، آرٹ نمائش میں پاکستان کی رنگا رنگ ثقافت اور قومی یکجہتی کا اظہار، پاکستان کی طاقت اس کی ثقافتی و سماجی تنوع، باہمی احترام اور مشترکہ قومی شناخت میں ہے، وائس چانسلر ڈاکٹر فتح محمد مری و دیگر کا افتتاحی تقریب سے خطاب
جامعہ سندھ جامشورو کی دو ہفتوں پر مشتمل 79ویں یومِ آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں انسٹیٹیوٹ آف آرٹ اینڈ ڈیزائن کی بینظیر آرٹ گیلری میں “میں ہوں پاکستان: ہم ایک ہیں” کے زیرعنوان آرٹ نمائش کا انعقاد کیا گیا، جس کا افتتاح شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری (ستارہ امتیاز) و دیگر مہمانوں نے ربن کاٹ کر کیا۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری کے ساتھ وائس چانسلر یونیورسٹی آف صوفی ازم اینڈ ماڈرن سائنسز بھٹ شاہ پروفیسر ڈاکٹر امام الدین کھوسو، وائس چانسلر یونیورسٹی آف میرپورخاص پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد میمن، ایس اے بی ایس یونیورسٹی آف آرٹ، ڈیزائن اینڈ ہیریٹیج کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر بھائی خان شر، پرو وائس چانسلر سندھ یونیورسٹی مین کیمپس پروفیسر ڈاکٹر عبد الستار شاہ، پرو وائس چانسلر دادو کیمپس پروفیسر ڈاکٹر انیلا ناز سومرو، رجسٹرار ساجد قیوم میمن و دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔افتتاح کے بعد وائس چانسلر اور دیگر مہمانوں نے آرٹ گیلری کا دورہ کیا، جہاں طلبہ نے اپنے تیار کردہ فن پارے پیش کیے اور مہمانوں کو ان کے موضوعات، خیالات اور تیاری کے تکنیکی طریقوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ یہ فن پارے اساتذہ کی زیرنگرانی یومِ آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں تیار کیے گئے تھے۔ نمائش میں پاکستان کے مختلف علاقے، ان کی ثقافتیں اور روایات اجاگر کرنے والے خوبصورت نقشے، قائداعظم محمد علی جناح کے پورٹریٹ، قومی پرچم کے عکس اور دیگر کئی فن پارے شامل تھے، جن کے ذریعے آزادی، حب الوطنی، قومی شناخت، یکجہتی اور ملک کی ثقافتی رنگارنگی کو اجاگر کیا گیا۔ طلبہ نے رنگوں، شکلوں اور مختلف علامتوں کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ ملک کی مختلف ثقافتیں، روایات اور شناختیں مل کر پاکستان کی مشترکہ قومی شناخت کو مضبوط بناتی ہیں۔نمائش دیکھنے کے لیے آنے والے مہمانوں نے طلبہ کے فن پاروں میں گہری دلچسپی لی اور ان سے بات چیت کرکے ان کے کام کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ مہمانوں نے طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں، فنی مہارت اور منفرد انداز کو سراہتے ہوئے کہا کہ کئی فن پارے عالمی معیار کے کام کے برابر ہیں۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری نے کہا کہ نمائش کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ پاکستان کی طاقت اس کی ثقافتی اور سماجی گوناگونیت، باہمی احترام اور مشترکہ قومی شناخت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ نے یومِ آزادی کے جذبے کو فن کے خوبصورت انداز میں پیش کرتے ہوئے پاکستان کی تاریخ، ثقافتی ورثے، قومی علامات اور قومی امنگوں کو اپنے تخلیقی کام کا حصہ بنایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فن ایک ایسی منفرد زبان ہے، جس کے ذریعے نوجوان اپنی شناخت، ثقافتی ورثے اور شہری ذمہ داریوں کے بارے میں خیالات کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور اعتماد میں بھی اضافہ کرسکتے ہیں۔ڈاکٹر فتح مری نے انسٹیٹیوٹ آف آرٹ اینڈ ڈیزائن کے اساتذہ کو طلبہ کے لیے ایسا تخلیقی پلیٹ فارم فراہم کرنے پر سراہا، جہاں وہ اپنے خیالات کو خوبصورت فن پاروں کی صورت دے سکتے ہیں، اور طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی فنی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنائیں اور قومی و عالمی سطح پر اپنا مقام پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کی ذمہ داری صرف کلاس روم تک محدود نہیں ہے، بلکہ انہیں نوجوانوں میں تخلیقی سوچ، ثقافتی شعور اور ذمہ دار شہری ہونے کا احساس بھی پیدا کرنا چاہیے۔وائس چانسلر نے کہا کہ سندھ یونیورسٹی میں یومِ آزادی کے حوالے سے علمی، ادبی، ثقافتی، فنی و سماجی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کا مقصد نوجوان نسل کو آزادی کی اہمیت اور ملک کے لیے اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانا ہے۔ وائس چانسلر یونیورسٹی آف صوفی ازم اینڈ ماڈرن سائنسز بھٹ شاہ پروفیسر ڈاکٹر امام الدین کھوسو نے کہا کہ “میں ہوں پاکستان: ہم ایک ہیں” کا موضوع قومی یکجہتی کا خوبصورت پیغام دیتا ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کی لسانی، ثقافتی و علاقائی رنگارنگی ملک کو تقسیم کرنے کے بجائے اس کی خوبصورتی اور طاقت میں اضافہ کرتی ہے۔ ڈاکٹر کھوسو نے کہا کہ طلبہ کے فن پاروں سے پاکستان کے ساتھ ان کی محبت اور ملک کے مالامال ثقافتی ورثے کے بارے میں ان کا شعور صاف نظر آتا ہے۔شہید اللہ بخش سومرو یونیورسٹی آف آرٹ، ڈیزائن اینڈ ہیریٹیج کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر بھائی خان شر نے کہا کہ نمائش سندھ یونیورسٹی کے طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کا بہترین اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ فن پاروں میں پاکستان کی تاریخ، ثقافت، مناظر، روایات اور قومی علامات کو مختلف فنی اندازوں سے پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے طلبہ اور اساتذہ کو ایسے فن پارے تیار کرنے پر سراہا، جن میں خوبصورتی کے ساتھ حب الوطنی، قومی شناخت اور یکجہتی کا بامعنی پیغام بھی موجود ہے۔ وائس چانسلر یونیورسٹی آف میرپورخاص پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد میمن نے کہا کہ فن میں وہ منفرد طاقت موجود ہے، جو زبان، علاقے اور ثقافت کی حدود سے بالاتر ہوکر لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے فن پاروں کا معیار حوصلہ افزا ہے اور ان میں تخلیقی اعتماد اور فنی صلاحیت واضح نظر آتی ہے۔ پرو وائس چانسلر سندھ یونیورسٹی مین کیمپس پروفیسر ڈاکٹر عبد الستار شاہ نے کہا کہ نمائش طلبہ کی تخلیقی سوچ اور پاکستان کے ساتھ ان کی محبت کا خوبصورت اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ نمائش کا موضوع اس اہم حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ مختلف ثقافتی رنگوں اور روایات کو ایک مشترکہ قومی شناخت کے ساتھ جوڑنے سے پاکستان کی وحدت مزید مضبوط ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فن پاروں میں پاکستان کی ثقافتی رنگارنگی اور نوجوان فنکاروں کی قومی موضوعات کو نئے اور تخلیقی انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت نمایاں نظر آتی ہے۔ پرو وائس چانسلر سندھ یونیورسٹی دادو کیمپس پروفیسر ڈاکٹر انیلا ناز سومرو نے کہا کہ نمائش طلبہ کی پاکستان اور اس کے ثقافتی ورثے کے ساتھ جذباتی اور فکری وابستگی کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فن پاروں میں مختلف رنگوں، روایات اور فنی اظہار کو ایک مشترکہ قومی شناخت کے خوبصورت خیال کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ انہوں نے طلبہ اور اساتذہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تخلیقی اور مؤثر فن پاروں کے ذریعے نمائش کے موضوع کو خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے۔ فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر نانک رام نے کہا کہ آرٹ نمائش کا موضوع خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ پاکستان کی شناخت مختلف زبانوں، ثقافتوں، روایات اور علاقائی تاریخوں کے خوبصورت امتزاج سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ نے فن کو صرف خوبصورتی کے اظہار کے لیے استعمال نہیں کیا، بلکہ اسے شہریت، قومی شناخت اور حب الوطنی کے بارے میں اپنے خیالات پیش کرنے کا ذریعہ بھی بنایا ہے۔ انہوں نے سندھ یونیورسٹی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی قومی دن کو علمی اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے منانے کے لیے طلبہ کو بامقصد مواقع فراہم کررہی ہے۔ ڈین فیکلٹی آف کامرس اینڈ بزنس ایڈمنسٹریشن پروفیسر ڈاکٹر جاوید چانڈیو نے کہا کہ نمائش اس بات کا ثبوت ہے کہ یونیورسٹی کے طلبہ اپنے تعلیمی شعبوں سے باہر بھی تخلیقی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے انسٹیٹیوٹ آف آرٹ اینڈ ڈیزائن کو طلبہ کے لیے ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنے پر سراہا، جہاں وہ اپنی فنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ ساتھ یومِ آزادی کی تقریبات میں بھی حصہ لے سکتے ہیں۔ ڈین فیکلٹی آف نیچرل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر ناہید کاکا نے کہا کہ نمائش فن کی اس صلاحیت کو اجاگر کرتی ہے، جو لوگوں میں ملک کی تاریخ، ثقافت اور قومی شناخت کے بارے میں شعور بڑھا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ نے پاکستان کی قومی علامات اور ثقافتی ورثے کو فنی انداز میں پیش کرتے ہوئے قابلِ تعریف جدت اور تخلیقی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے طلبہ اور اساتذہ کو بہترین فن پارے پیش کرنے اور یومِ آزادی کے حوالے سے ایک بامقصد اور خوبصورت ماحول پیدا کرنے پر مبارکباد دی۔ ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف آرٹ اینڈ ڈیزائن پروفیسر سعید احمد منگی نے کہا کہ نمائش کا مقصد فن کے اظہار کو یومِ آزادی کے قومی جذبے کے ساتھ جوڑنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ نے اساتذہ کی نگرانی میں بڑی محنت کے ساتھ نمائش کے بنیادی موضوع کو مختلف فنی اندازوں میں پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ طلبہ میں نئے خیالات اور فنی تجربات کو فروغ دیتا رہے گا، جبکہ انہیں پاکستان کے ثقافتی ورثے اور جدید فنی رجحانات کے ساتھ بھی جوڑا جائے گا۔اس موقع پر رجسٹرار ساجد قیوم میمن، ڈائریکٹر اوریک ڈاکٹر فرحت نورین، ڈاکٹر احمد علی بروہی، ڈاکٹر شاہ مراد چانڈیو، ڈاکٹر غلام اکبر مہيسر، ذیشان میمن، محمد معشوق صدیقی، اجوید احمد بھٹی، پروفیسر امید علی رند، ڈاکٹر محمد یونس لغاری، ڈاکٹر سکندر علی سومرو، ڈاکٹر خالد حسین لاشاری، ڈاکٹر فیض بروہی، ڈاکٹر مبارک علی لاشاری، ڈاکٹر محمد قاسم نظامانی، ڈاکٹر نعمت اللہ خلجی، غلام شبیر عباسی، ڈاکٹر نیاز علی بھٹو، ڈاکٹر پنہل خان لاشاری، انیل کمار بھاٹیا، ڈاکٹر صدف، رفیق علی بروہی، پروفیسر صبین نعیم، ڈاکٹر ریحانہ ملاح، ڈاکٹر حمیرہ ہکڑو، ڈاکٹر ثمیرہ ڈیرو، ڈاکٹر برکت علی بگھیو، اسماء کلہوڑو اور یونیورسٹی کے دیگر سینئر اساتذہ و افسران بھی موجود تھے۔نمائش 14 اگست، پاکستان کے یومِ آزادی تک عوام الناس اور طلبہ کے لیے کھلی رہے گی۔