جامعہ سندھ جامشورو میں گرینڈ اسکالرشپ چیک تقسیم کرنے کی تقریب کا انعقاد، تعلیم کے صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن سندھ ڈاکٹر ایس ایم طارق رفیع اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری نے طلبہ و طالبات میں چیک تقسیم کرکے افتتاح کیا، مجموعی طور پر 1074 امیدواروں میں 5 کروڑ 25 لاکھ 77 ہزار روپے کے چیک تقسیم کیے گئے
جامعہ سندھ جامشورو میں گرینڈ اسکالرشپ چیک تقسیم کرنے کی تقریب منعقد ہوئی، جس کا افتتاح صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن سندھ ڈاکٹر ایس ایم طارق رفیع اور شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری (تمغہ امتیاز) نے طلباء میں چیک تقسیم کرکے کیا۔ تقریب میں مجموعی طور پر 1074 طلبہ و طالبات میں 5 کروڑ 25 لاکھ 77 ہزار روپے کے چیک تقسیم کیے گئے۔ تقریب محترمہ بینظیر بھٹو کنونشن سینٹر کے مرکزی آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے کہا کہ نوجوان اکثر مناسب کیریئر کونسلنگ نہ ہونے کے سبب بڑوں کی خواہش کے مطابق یونیورسٹیوں میں داخلہ لیتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ پڑھتے کچھ ہیں اور مستقبل میں بنتے کچھ اور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود جب کالج میں داخل ہوئے تو شاعری شروع کی لیکن ان کا داخلہ سول انجینئرنگ میں کرایا گیا، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ طلبہ کے لیے کیریئر کونسلنگ کتنی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں طلباء کے داخلے مناسب کیریئر کونسلنگ کے ذریعے کرائے جائیں تو مستقبل میں ملک کو بہتر انسانی وسائل اور باصلاحیت افرادی قوت مل سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کا مقصد صرف ملازمت حاصل کرنا نہیں، بلکہ شعور اور سوچ پیدا کرنا ہے، اس لیے نوجوانوں کو صرف ملازمتوں کے حصول کو مقصد بنانے کے بجائے معیاری تعلیم حاصل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ اسکالرشپس صرف میرٹ کی بنیاد پر ملنی چاہئیں اور سندھ حکومت نے میرٹ کو ترجیح دیتے ہوئے ایک لاکھ اساتذہ کی بھرتیاں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری میرٹ کرنے کی بہت سی مثالیں موجود ہیں، ایک لاکھ اساتذہ بھرتی کرنے کے دوران ایک ایسے طالب علم نے پوزیشن حاصل کی، جس کے گاؤں میں اسکول تک کی سہولت موجود نہیں تھی۔ سید سردار علی شاہ نے کہا کہ دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور مصنوعی ذہانت کے دور میں روایتی ملازمتوں کے مواقع کم ہو رہے ہیں۔ اگر ایک روبوٹ پانچ لوگوں کا کام کر سکتا ہے تو اداروں کو اتنے ملازمین رکھنے کی ضرورت کیوں پڑے گی؟ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سائنسی تعلیم، خاص طور پر کمپیوٹر سائنس اور مصنوعی ذہانت کی تعلیم حاصل کریں تاکہ مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کے خلاف نہیں ہیں لیکن کچھ دن پہلے اے آئی کے بارے میں ان کی گفتگو کو غلط رنگ دے کر پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سائنس اور جدید ٹیکنالوجی میں مہارتیں حاصل کرنے سے نوجوان بدلتی ہوئی روزگار کی مارکیٹ میں اپنا مقام بنا سکتے ہیں۔ صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ ایران کی سائنسی تعلیم اور مصنوعی ذہانت میں ترقی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ اے نے تعلیمی اداروں میں سائنس کی تعلیم اور لیبارٹریوں کی توسیع پر زور دیا اور خود اداروں اور لیبارٹریوں کے دورے کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران نے آج امریکہ جیسے سپر پاور کو شکست دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے خلاف ایران کی جنگ میں کامیابی کو معجزہ نہ سمجھا جائے بلکہ ثابت ہو گیا ہے کہ ایران جدید سائنسی تعلیم اور مصنوعی ذہانت میں بہت آگے نکل چکا ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیش میں طلباء کی جدوجہد کے نتیجے میں آنے والی تبدیلی اور بھارت میں طلباء کے احتجاجوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں نوجوانوں کے احتجاج نے نریندر مودی کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اپنی توانائی مثبت سرگرمیوں، بالخصوص اعلیٰ تعلیم کے حصول پر صرف کرنی چاہیے۔ چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن سندھ ڈاکٹر ایس ایم طارق رفیع نے کہا کہ ملک اور معاشرے کی ترقی کے لیے اعلیٰ تعلیم کی بڑی اہمیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکالرشپ صرف رقم کی فراہمی کا نام نہیں بلکہ یہ طلباء کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی امداد اہم ہے، لیکن اصل مسئلہ معیاری تعلیم کا حصول ہے، اگر مالی تعاون فراہم کرنے کے باوجود تعلیمی معیار میں بہتری نہ آئے تو یہ بڑے نقصان کی بات ہوگی اور تعلیم سے متعلق تمام فریقین کو اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ انہوں نے طلباء کو محنت کرنے اور آگے بڑھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ یہی پاکستان کا مستقبل ہیں۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری (ٹی آئی) نے کہا کہ اسکالرشپ کی فراہمی کا بنیادی مقصد کسی بھی طالب علم کو مالی مسائل کے سبب تعلیم ادھوری چھوڑنے سے بچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب فیس نہ ہونے کے سبب مادر علمی کا کوئی بھی طالب علم تعلیم چھوڑنے پر مجبور نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ یونیورسٹی کے اساتذہ اپنی تنخواہوں سے ماہانہ کٹوتی کرا کر طلبہ کے لیے اسکالرشپ فراہم کر رہے ہیں، جبکہ اب افسران اور چھوٹے ملازمین بھی اپنی تنخواہوں سے طلبہ کی اسکالرشپ کے لیے رقم کٹوانے پر رضامند ہوئے ہیں، جو ایک بڑے جذبے اور قربانی کی مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے محکمہ تعلیم، یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے صوبائی وزیر، ہائر ایجوکیشن کمیشن سندھ اور خاص طور پر سندھ کے وزیراعلیٰ کے تعاون سے سندھ یونیورسٹی میں تعلیمی و تحقیقی معیار کو مزید بلند کیا جائے گا۔ تقریب کے دوران کئی طلباء کو بھی سندھ یونیورسٹی اور میرٹ پر اسکالرشپ ملنے کے بارے میں اپنے خیالات پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ طلباء نے وائس چانسلر کی قیادت اور اسکالرشپ کے شفاف نظام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مالی تعاون کی فراہمی سے ڈراپ آؤٹ کے تناسب کو کم کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔ اس سے قبل اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسٹوڈنٹس فنانشل ایڈ آفس قمر نانگراج نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ یونیورسٹی کا اسکالرشپ نظام مضبوط اور شفافیت پر مبنی ہے۔ اس مرتبہ 1074 طلبہ میں 5 کروڑ 25 لاکھ 77 ہزار روپے کے چیک میرٹ کے تحت تقسیم کیے گئے ہیں۔ تقریب میں پی وی سی سندھ یونیورسٹی مین کیمپس پروفیسر ڈاکٹر عبدالستار شاہ، پی وی سی ٹھٹہ کیمپس پروفیسر ڈاکٹر مصباح بی بی قریشی، پی وی سی دادو کیمپس پروفیسر ڈاکٹر انیلا ناز سومرو، ڈائریکٹر اسٹوڈنٹس فنانشل ایڈ آفس میاں احمد علیم پاشا، مختلف فیکلٹیز کے ڈینز، انتظامی و تدریسی سربراہان، اساتذہ، افسران، ملازمین و طلباء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔