پاکستان میں ہر سال چھاتی کے کینسر کے باعث 40 ہزار خواتین جاں بحق ہو جاتی ہیں، جبکہ سالانہ 90 ہزار نئے کیسز سامنے آتے ہیں؛ آگاہی اور بروقت تشخیص سے قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں: مقرر

جامعہ سندھ کے شعبۂ فزیالوجی کی جانب سے چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی سیمینار منعقد کیا گیا۔ شعبے کے آڈیٹوریم میں منعقدہ اس سیمینار کی صدارت جامعہ سندھ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری نے کی، جبکہ چھاتی کے کینسر کی ماہر ڈاکٹر عائشہ مسرور بھٹی نے مہمان مقرر کی حیثیت سے شرکت کی۔

تقریب کے اعزازی مہمانوں میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر جامشورو ڈاکٹر پیر منظور احمد چانڈیو، فیکلٹی آف نیچرل سائنسز کی ڈین پروفیسر ڈاکٹر ناہید کاکا اور انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری کی ڈائریکٹر و سنڈیکیٹ ممبر ڈاکٹر عرفانہ بیگم ملاح شامل تھے۔ اس موقع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر فتح محمد مری نے کہا کہ چھاتی کا کینسر ایک ایسی بیماری ہے جس کا علاج ممکن ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ مرض کی بروقت اور ابتدائی مرحلے میں تشخیص کی جائے۔ اس حوالے سے آگاہی انتہائی اہم ہے اور اساتذہ و طلبہ اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپنے اہلِ خانہ، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو اس بیماری کے بارے میں آگاہ کرنا ضروری ہے، تاکہ اس مرض سے متاثرہ افراد کی بروقت مدد کی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بیماری کو نظرانداز کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر کسی کو اس نوعیت کی علامات یا تکلیف محسوس ہو تو اسے فوری طور پر کسی مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ ہمارے سرکاری اسپتالوں میں تمام ضروری سہولیات موجود ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہونے سے کامیاب علاج ممکن ہے اور بہت سے مریض علاج کے بعد مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں۔

وائس چانسلر نے مزید کہا کہ کینسر ایک ایسی بیماری ہے جس کی تکلیف سے صرف متاثرہ فرد ہی نہیں گزرتا، بلکہ اس کا پورا خاندان شدید مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔ اس دوران خاندان کو مالی مسائل سمیت مختلف پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بروقت آگاہی اور علاج کے ذریعے ان مشکلات سے بچا جا سکتا ہے۔

پبلک ہیلتھ کے محکمے کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحت مند معاشرے کی تشکیل میں اس کی بہت اہمیت ہے۔ آگاہی پروگرامز کے ذریعے یہ محکمہ بیماریوں کے مضر اثرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانی اور خوراک کا بیماریوں کے پھیلاؤ میں اہم کردار ہوتا ہے۔ اگر صاف پانی کی فراہمی اور صحت بخش خوراک کی دستیابی یقینی بنائی جائے تو بیماریوں کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپتالوں پر جتنے اخراجات کیے جاتے ہیں، اگر ان کا مناسب حصہ صاف پانی اور صحت بخش خوراک کی فراہمی پر خرچ کیا جائے تو بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

وائس چانسلر نے پولیو کے حوالے سے کہا کہ دنیا کے تمام ممالک تقریباً پولیو سے پاک ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان میں اب بھی پولیو کے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ لوگوں میں ویکسینیشن سے متعلق شعور کی کمی ہے۔ انہوں نے اس مرض کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ آگاہی مہم چلانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہر نومولود بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں تو پاکستان میں بھی اس مرض کا مکمل خاتمہ ممکن ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عائشہ مسرور بھٹی نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال چھاتی کے کینسر کے باعث 40 ہزار خواتین جاں بحق ہو جاتی ہیں، جبکہ سالانہ 90 ہزار نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر مریض بیماری کے آخری مرحلے میں اسپتالوں سے رجوع کرتے ہیں، جس کی بنیادی وجہ بروقت آگاہی اور تشخیص کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو مل کر کینسر کے خلاف جنگ لڑنی اور اس بیماری کو شکست دینی ہے۔

ڈاکٹر پیر منظور احمد چانڈیو نے کہا کہ شعبۂ صحتِ عامہ بیماریوں سے متعلق آگاہی پیدا کرنے، ان سے بچاؤ اور علاج کے حوالے سے مسلسل کوششیں کر رہا ہے، جن کے مثبت نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔

ڈاکٹر عرفانہ بیگم ملاح نے کہا کہ چھاتی کے کینسر کے کیسز میں اضافہ انتہائی تشویش ناک ہے۔ اس بیماری سے نمٹنے کے لیے آگاہی اور معیاری علاج کی فراہمی بہت اہم ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے اس نوعیت کے سیمینار زیادہ سے زیادہ منعقد کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس موقع پر فیکلٹی آف نیچرل سائنسز کی ڈین پروفیسر ڈاکٹر ناہید کاکا نے بھی موضوع کی مناسبت سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

تقریب کے آغاز میں شعبۂ فزیالوجی کے چیئرمین ڈاکٹر ذوالفقار علی لغاری نے تمام شرکاء کو خوش آمدید کہا اور سیمینار کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔

 

Author: Mrs. Shumaila Solangi 10/30/2026
Announcements
1024 x 768
Breast Cancer Claims 40,000 Women’s Lives Annually in Pakistan; SU Seminar Stresses Awar...
View Details → 10/30/2026
1024 x 768
Artists Express Emotions and Reflect Society Through Colours: Art and Craft Exhibition Hel...
View Details → 10/30/2026
1024 x 768
پاکستان میں ہر سال چھاتی کے کینسر کے باعث 40 ہزار خÙ...
View Details → 10/30/2026