جامعہ سندھ میں ایریا اسٹڈی سینٹر کی میزبانی میں دو روزہ عالمی کانفرنس کا آغاز، افتتاحی تقریب میں وی سی، پی پی سندھ کے صدر و دیگر کی شرکت، چین میں پاکستان کے سفیر کا بذریعہ زوم خطاب
جامعہ سندھ جامشورو کے ایریا اسٹڈی سینٹر کی جانب سے “چائنا پاکستان اقتصادی راہداری: کامیابیاں، چیلنجز اور آئندہ کا لائحہ عمل” کے زیر عنوان دو روزہ عالمی کانفرنس بینظیر بھٹو کنونشن سینٹر کے مرکزی آڈیٹوریم میں شروع ہو گئی ہے۔ سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز سندھ کے تعاون سے منعقدہ عالمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری نے کی، جبکہ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے انفراسٹرکچر کی ترقی کو خوراک کے تحفظ، علاقائی روابط اور طویل مدتی معاشی منصوبہ بندی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک کو عوامی روابط اور زراعت دوست منصوبے کے طور پر آگے بڑھایا جائے۔ اپنے صدارتی خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری نے کہا کہ سی پیک صرف سڑکوں اور توانائی منصوبوں کا جال نہیں، بلکہ یہ ایک تبدیلی لانے والا فریم ورک ہے، جو پاکستان کے خوراکی نظام اور معاشی استحکام کو تقویت دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت بنائی گئی بہتر سڑکوں کے باعث ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہوئے ہیں، جس سے آبادگاروں کو بڑی منڈیوں تک رسائی ملی ہے اور ان کے نقصانات میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اب پاکستان کو سی پیک کے دوسرے مرحلے میں زرعی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ایگرو پروسیسنگ زونز کے قیام پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خوراک کا تحفظ صرف دیہی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ اب قومی سلامتی کا اہم جز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت اور آبادی میں اضافہ پائیدار خوراک کی پیداوار کے لیے بڑے خطرات ہیں۔ وائس چانسلر نے کہا کہ جدید آبپاشی طریقوں، بیج کی ترقی اور مشینی زراعت میں چین کے ساتھ تعاون فصلوں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ لا سکتا ہے۔ انہوں نے پاکستانی اور چینی یونیورسٹیوں کے درمیان تحقیقی شراکت داری بڑھانے کی تجویز دی تاکہ پانی کے انتظام، صحرائی علاقوں اور ویلیو چین ڈیولپمنٹ جیسے مسائل کا مقابلہ کیا جا سکے۔ انہوں نے اسپیشل اکنامک زونز کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ خوراک کی پروسیسنگ اور برآمدی زراعت کے لیے مراکز بن سکتے ہیں۔ ڈاکٹر مری نے کہا کہ پالیسی کا تسلسل، شفافیت اور صوبائی ہم آہنگی سی پیک کے مکمل فوائد کے لیے ضروری ہیں۔ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے کراچی سرکلر ریلوے کو سی پیک میں شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے شہری ٹرانسپورٹ بہتر ہوگی اور معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے اربوں ڈالر کے سی پیک منصوبے کو پس منظر میں ڈال دیا، جس سے قومی معیشت کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کے باعث نہ صرف انفراسٹرکچر متاثر ہوا بلکہ روزگار کے مواقع اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی کم ہوا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ترقی اور سی پیک کی مخالفت کرنے والی قوتیں عوام کو ترقی اور خوشحالی سے محروم رکھنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو سی پیک اور ملکی ترقی پر حملہ کرتے ہیں، وہ لوگوں کو معاشی طور پر کمزور رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پائیدار ترقی قومی استحکام کے لیے ضروری ہے۔ نثار کھوڑو نے سکھر-حیدرآباد موٹروے کی تعمیر میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت ابھی تک اس منصوبے پر کام شروع نہیں کر سکی، جو نااہلی کی نشانی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ اہم انفراسٹرکچر منصوبوں کو جلد مکمل کیا جائے۔ پی پی رہنما نے کہا کہ سندھ کی بقا پانی سے وابستہ ہے اور دریائے سندھ پر نئی نہریں بنانے کی کسی بھی کوشش کی سخت مزاحمت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کوششوں کو پہلے ہی سندھ کا عوام مسترد کر چکا ہے، کیونکہ زراعت سندھ کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور پانی کی قلت تباہی پھیلائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی پالیسیوں کے باعث ملک سمیت سندھ میں مختلف بحران پیدا ہوئے ہیں، جس کے سبب آج پاکستان میں ہر چیز کا بحران ہے۔ انہوں نے چین سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈیڑھ ارب آبادی کے باوجود چین میں آٹے کی قلت کی خبریں کبھی بھی پڑھنے کو نہیں ملیں، جبکہ پاکستان میں آٹے کے بحران پر قابو پانا بھی حکمرانوں کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے۔ پی پی رہنما نے مزید کہا کہ پاکستان کو بہتر منصوبہ بندی اور حکمرانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان چین سے چاول، چینی اور دیگر اشیاء درآمد کرتا ہے مگر زرعی اصلاحات سے سبق حاصل نہیں کرتا۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی اور اصلاحات کے ذریعے زرعی شعبے کو مضبوط کرنے پر زور دیا۔ چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے زوم کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک اب اعلیٰ معیار کی ترقی، جدت اور پائیداری کے نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی جدت دونوں ممالک کے مستقبل کے تعاون کا اہم ستون ہے، جس میں بیج ٹیکنالوجی، مال مویشی پالنا اور کولڈ چین لاجسٹکس شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی پیداوار میں اضافہ خوراک کے تحفظ کے ساتھ دیہی آمدنی اور برآمدات بڑھانے میں مددگار ہوگا۔ انہوں نے چین کے غربت کے خاتمے اور دیہی بحالی کے تجربات سے سیکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گوادر بندرگاہ اور بہتر لاجسٹکس زرعی برآمدات کے لیے اہم کردار ادا کریں گے۔ سرگودھا یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر طاہر ممتاز اعوان نے کہا کہ تعلیمی اور ثقافتی تعاون پائیدار تعلقات کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت، پانی کے انتظام اور قابل تجدید توانائی میں مشترکہ تحقیق پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ اسٹریٹجک پلان ڈویژن کے مشیر اور سابق سفیر ضمیر اکرم نے کہا کہ سی پیک نے پاکستان کی علاقائی اور معاشی حیثیت کو مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیلنجز کے باوجود پاکستان منصوبے کے طویل مدتی ویژن پر قائم ہے اور خوراک کے تحفظ کو قومی منصوبہ بندی میں شامل کرنا ضروری ہے۔ ڈائریکٹر ایریا اسٹڈی سینٹر اور کانفرنس کنوینر ڈاکٹر نورین مناف نے کہا کہ کانفرنس کا مقصد پالیسی سازوں، سفارت کاروں اور ماہرین کو اکٹھا کر کے سی پیک کی پیش رفت اور مستقبل پر بامعنی بحث کرانا ہے۔ کانفرنس سیکریٹری ڈاکٹر ماجد علی نوناری نے کہا کہ تقریب میں ملک اور بیرون ممالک سے ماہرین نے شرکت کر کے معاشی اور پائیدار ترقی، سی پیک کی اہمیت اور خوراک کے تحفظ پر خیالات کا تبادلہ کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کانفرنس کی سفارشات پالیسی سازی میں مددگار ثابت ہوں گی۔ کانفرنس آج (12 فروری کو) بھی جاری رہے گی۔