مقررین کا مادری زبانوں کے ماحولیاتی تحفظ اور ثقافتی ورثے میں کردار پر زور، دنیا میں اس وقت موجود 7 ہزار زبانوں میں سے صرف 200 زبانیں ہی طویل عرصے تک قائم رہ سکتی ہیں، سندھی زبان 5 ہزار سال سے زیادہ پرانی ہے اور اس کے اسکرپٹ یا تحریر کی بھی ایک بڑی تاریخ موجود ہے، بچوں کو بنیادی تعلیم سندھی میں دی جائے، وائس چانسلر ڈاکٹر فتح مری، جامی چانڈیو، ڈاکٹر محمد علی مانجھی، فیاض لطیف و دیگر کا سندھ یونیورسٹی میں زبانوں سے متعلق سیمینار سے خطاب
سندھ یونیورسٹی جامشورو کے انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی کی جانب سے “مادری زبان کے ذریعے ماحولیات کا تحفظ” کے زیر عنوان ایک اہم سیمینار پیر حسام الدین شاہ راشدی آڈیٹوریم میں منعقد کیا گیا، جس میں مقررین نے کہا ہے کہ مقامی زبانوں کا ثقافتی ورثے اور ماحولیاتی تحفظ میں انتہائی اہم کردار ہے۔ اپنے بچوں کو بنیادی تعلیم سندھی میں دلانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 6 ہزار سے زائد زبانوں میں دنیا کی تقریباً نصف آبادی 26 بڑی زبانیں بول رہی ہے، جبکہ باقی ماندہ آبادی 6 ہزار زبانیں بول رہی ہے۔ ایسا اظہار انہوں نے گزشتہ روز جامعہ سندھ میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جو انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی کی جانب سے عالمی مادری زبان کے دن کے سلسلے میں منعقد کیا گیا۔ سیمینار کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری نے کی، جس میں طلباء، ماہر لسانیات و دانشوروں نے شرکت کی اور جدید دور میں سندھی و دیگر مقامی زبانوں کو درپیش چیلنجز اور ان کے تحفظ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر فتح مری نے تقریب کے منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے زبانوں کے بارے میں مختلف خیالات کے تبادلے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں حقیقی خطرہ سندھی زبان کو نہیں بلکہ تحقیق، اداروں اور بنیادی ڈھانچے کے ایکو سسٹم کو ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ سندھی زبان کے سندھ میں تین اہم لہجے ہیں، لیکن ان میں سے کسی پر بھی کوئی تنازع نہیں اور تمام ادیب و دانشمند متفق ہیں۔ دانشور اور مصنف جامی چانڈیو نے کہا کہ 21ویں صدی علم کا بڑا دور ہونے کے ساتھ ساتھ زبانوں کے لیے خطرناک دور بھی ہے۔ یونیسکو کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زبانیں تیزی سے غائب ہو رہی ہیں اور اب تک کئی زبانیں مر چکی ہیں، جن میں سنسکرت، لاطینی، یونانی و دیگر زبانیں شامل ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا میں اس وقت موجود 7 ہزار زبانوں میں سے صرف 200 زبانیں ہی طویل عرصے تک باقی رہ سکتی ہیں، جو سماجی، معاشی اور آبادی کے عوامل پر منحصر ہیں۔ ڈاکٹر محمد علی مانجھی نے کہا کہ سندھی زبان 5 ہزار سال سے زیادہ پرانی ہے اور اس کے اسکرپٹ یا تحریر کی بھی ایک بڑی تاریخ موجود ہے۔ انہوں نے موئن جو دڑو اور دیگر تاریخی مقامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قدیم سندھی لوگ مقامی تحریروں کے ساتھ حکمرانوں کی زبانوں میں لکھنے سے بھی واقف تھے۔ انہوں نے کہا کہ زبان ثقافتی اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے طاقتور ذریعہ بن سکتی ہے۔ چیئرمین سندھی لینگویج اتھارٹی ڈاکٹر شیر مہرانی نے کہا کہ عام طور پر سندھی لوگ عربی میں دعا مانگتے ہیں، انگریزی میڈیم میں اپنے بچوں کو تعلیم دلواتے ہیں اور سندھی میں بے کار باتیں یا گالم گلوچ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سنجیدہ گفتگو کے دوران وہ خود کو تعلیم یافتہ ثابت کرنے کے لیے اپنی مادری زبان کو اکثر نظرانداز کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زندہ زبانوں کی فطری طور پر موت نہیں ہوتی، بلکہ جب بولنے والے ان کا استعمال چھوڑ دیتے ہیں تو وہ کمزور ہو کر ختم ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سندھ میں بنیادی علم مادری زبان میں دیا جائے، جبکہ دیگر زبانیں سیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا بچہ سندھی گھر میں سیکھتا ہے اور اردو، سرائیکی یا دیگر زبانیں خود ہی سیکھ لیتا ہے۔ لسانی ماہر شفقت قادری نے کہا کہ 1970ء سے 2005ء تک دنیا میں تقریباً 20 فیصد زبانیں غائب ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ زبانیں فطری طور پر نہیں مرتیں، بلکہ سماجی رویوں اور پالیسی اور فیصلوں کے سبب “ماری” جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب والدین اپنے بچوں کے لیے سندھی کے بجائے انگریزی میڈیم اسکول کو ترجیح دیتے ہیں تو وہ بچے سندھی پر دسترس حاصل نہیں کر سکتے اور وہ سندھی بولنا چھوڑ دیتے ہیں۔ انہوں نے عالمی زبانوں کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی نصف آبادی 26 بڑی زبانیں بولتی ہے، جبکہ باقی آبادی تقریباً 6 ہزار زبانیں بولتی ہے۔ ڈائریکٹر ڈاکٹر این اے بلوچ چیئر ڈاکٹر شازیہ پتافی نے بچے اور مادری زبان کے جذباتی اور شعوری تعلق پر زور دیا اور کہا کہ اپنی مادری زبان چھوڑنے سے ثقافتی نقصان ہوتا ہے۔ ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی ڈاکٹر فیاض لطیف نے شرکاء سے اپیل کی کہ وہ کبھی بھی اپنی مادری زبان نہ بھولیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اپنی مادری زبان کا کوئی متبادل نہیں۔ انہوں نے زبان، شناخت اور ماحولیاتی شعور کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ اس سے قبل سیمینار کا آغاز ڈاکٹر ذوالفقار علی قریشی کی جانب سے شاہ عبداللطیف بھٹائی کی وائی سے کیا گیا۔ تقریب کا انتظام ڈاکٹر غلام علی بُرڑو نے سنبھالا۔