جامعہ سندھ میں سیمینار، علامہ آئی آئی قاضی کے علمی ورثے کو اجاگر کرنے اور ادب، فلسفہ اور تعلیم کے شعبوں میں ان کی خدمات پر نئے سرے سے تحقیق کی ضرورت پر زور، علامہ آئی آئی قاضی کے خیالات و فلسفہ آج کے ہمعصر سماج میں بھی بڑی اہمیت رکھتے ہیں، ان کے فکری ورثے کو محفوظ کرنا ہوگا، مقررین کا سیمینار سے خطاب
جامعہ سندھ جامشورو میں منعقدہ ایک سیمینار میں مقررین نے نامور عالم علامہ آئی آئی قاضی کے علمی ورثے کو اجاگر کرتے ہوئے ادب، فلسفہ اور تعلیم کے شعبوں میں ان کی خدمات پر نئے سرے سے تحقیق کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ علامہ آئی آئی قاضی کے خیالات اور فلسفہ آج کے ہمعصر سماج میں بھی بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایسا اظہار انہوں نے گزشتہ دنوں “علامہ آئی آئی قاضی کی زندگی اور کارنامے” کے زیر عنوان منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مذکورہ سیمینار علامہ آئی آئی قاضی چیئر کی جانب سے بانی وی سی کے ہفتہ کی سرگرمیوں کے سلسلے میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو چیئر اینڈ کنونشن سینٹر کے ویڈیو کانفرنس روم میں منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری نے تعلیمی چیئرز کو مزید مضبوط بنانے اور علامہ آئی آئی قاضی کے فکری ورثے کو محفوظ کرنے کے لیے کئی اقدامات کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ قاضی صاحب کے خطبات کی آڈیو ریکارڈنگز سندھیالاجی کے آرکائیوز میں موجود ہیں، جبکہ ان کے مسودات ڈاکٹر عبدالغفار سومرو نے مرتب کیے ہیں۔ انہوں نے چیئر کو ہدایت کی کہ اس قیمتی مواد کی مناسب حفاظت اور دیکھ بھال کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کے اولڈ کیمپس میں موجود اس تاریخی ہال کی جلد مرمت کرا کے اسے اصل حالت میں بحال کیا جائے گا، جہاں علامہ قاضی ماضی میں لیکچر دیتے تھے۔ وائس چانسلر نے یہ بھی بتایا کہ آئندہ مالی سال میں علامہ آئی آئی قاضی چیئر سمیت یونیورسٹی کی تمام تعلیمی اور تحقیقی چیئرز کے لیے الگ بجٹ مختص کیا جائے گا۔ انہوں نے محققین و ماہرین تعلیم سے اپیل کی کہ قومی شخصیات کی فکری خدمات سے متعلق تحقیق کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یونیورسٹی نے حال ہی میں شہید بینظیر بھٹو کی تقاریر سندھی زبان میں شائع کی ہیں اور اساتذہ کو ترغیب دی کہ وہ عالمی سیاست اور موجودہ عالمی امور کے حوالے سے ان کے ویژن کا جائزہ لیں۔ ادارہ جاتی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر مری نے کہا کہ سندھی لینگویج اتھارٹی، سندھ میوزیم اور مختلف تحقیقی چیئرز کے درمیان مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے شاہ عبداللطیف بھٹائی ودیگر نامور شخصیات کے کاموں کو مختلف زبانوں میں ترجمہ کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ چیئرمین سندھی لینگویج اتھارٹی ڈاکٹر شیر مہرانی نے کہا کہ علامہ قاضی ایک دور اندیش مفکر تھے، جنہوں نے سندھ کو مضبوط تعلیمی و سائنسی بنیادوں پر ترقی دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے علامہ قاضی کو شہد کی مکھی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح مکھی مختلف پھولوں سے رس جمع کر کے شہد تیار کرتی ہے، اسی طرح آئی آئی قاضی نے بھی مذہب، فلسفہ، ادب اور قانون سمیت مختلف مضامین سے علم حاصل کیا۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ان کے تحقیقی کاموں کا مطالعہ کریں تاکہ سندھ کی علمی روایت کی گہرائیوں کو سمجھ سکیں۔ ڈین فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر ڈاکٹر محمد خان سانگی نے کہا کہ سماج کو صرف یادگاری تقریبات تک محدود رہنے کے بجائے علامہ قاضی کے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور کو ایسی علمی شخصیات کی ضرورت ہے جو تعلیم اور علم کے فروغ کے لیے سنجیدگی سے کام کریں۔ ڈائریکٹر علامہ غلام مصطفیٰ قاسمی چیئر ڈاکٹر قاضی خادم حسین نے ادب و فلسفہ کے شعبوں میں قاضی صاحب کی تحریروں پر سنجیدہ تحقیق کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان تحقیقی کاموں کو موجودہ دور کے تناظر میں سمجھ کر پیش کرنا چاہیے تاکہ جدید قارئین کے لیے وہ زیادہ قابلِ فہم اور بامعنی بن سکیں۔ اس سے قبل استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے انچارج ڈائریکٹرعلامہ آئی آئی قاضی چیئر ڈاکٹر مخمور بخاری نے کہا کہ یہ چیئر 1987ء میں قائم کی گئی تھی اور علامہ قاضی کو پاکستان میں تقابلی مذاہب کے پہلے شعبے کی بنیاد رکھنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی وی سی ہفتہ کی تقریبات صرف مین کیمپس تک محدود نہیں بلکہ سندھ کے دیگر کیمپسز میں بھی منعقد کی جا رہی ہیں اور انہوں نے مذکورہ سیمینار کو چیئر کے لیے “نئی شروعات” قرار دیا۔ ڈاکٹر بخاری نے مزید بتایا کہ علامہ آئی آئی قاضی میموریل سوسائٹی، جس کے پاس 30 لاکھ روپے کے فنڈز موجود ہیں، 2001ء سے غیر فعال ہے۔ انہوں نے اس سوسائٹی کو دوبارہ فعال کرنے کی تجویز دی تاکہ چیئر کی مالی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ سیمینار میں متعدد نامور علماء اور ادیبوں نے شرکت کی، جن میں تاج جویو، ڈاکٹر محمد علی مانجھی، نصیر مرزا، فہیم نوناری، ادریس جتوئی، نیاز پنہور، ڈاکٹر نور محمد شاہ و دیگر شامل تھے۔ قبل ازیں وائس چانسلر نے ڈینز، ڈائریکٹرز، شعبوں کے سربراہان، افسران و ملازمین کے ہمراہ علامہ آئی آئی قاضی کے مزار پر حاضری دی، جہاں انہوں نے قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ اس موقع پر فلسفی اور بانی وائس چانسلر کی مغفرت کے لیے اجتماعی دعا بھی کی گئی۔