جامعہ سندھ کے لیے 4.87 ارب روپے کے واٹر فلٹریشن منصوبے کا اعلان، اسکیم دو سال کے اندر مکمل ہوگی(خصوصی معاون برائے وزیراعلیٰ سندھ) سندھ حکومت کا جدید واٹر فلٹریشن اور سپلائی منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ عوامی شعبے کی جامعات میں بنیادی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے، وائس چانسلر ڈاکٹر مری

معاون خصوصی وزیراعلیٰ سندھ برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور رورل ڈیولپمنٹ محمد سلیم بلوچ نے گزشتہ روز جامعہ سندھ  کا دورہ کیا اور جامعہ کیلئے 4.87 ارب روپے کی مالیت کے ایک جامع واٹر سپلائی اور فلٹریشن پراجیکٹ کا اعلان کیا، جس کا مقصد ادارے کی بڑھتی ہوئی آبادی کو محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری، وائس چانسلر لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز پروفیسر ڈاکٹر اکرام الدین اجن، سیکریٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سہیل احمد قریشی و دیگر حکام کی موجودگی میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے خصوصی معاون نے کہا کہ “اربن واٹر سپلائی کے لیے سلو سینڈ فلٹریشن سسٹم کی بہتری، توسیع اور تعمیر” کے عنوان سے یہ اسکیم اگلے 15 سال کے لیے یونیورسٹی کی پانی کی ضروریات کو پورا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ 77,165 افراد کی آبادی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس میں یومیہ پانی کی فراہمی کی گنجائش 2.546 ملین گیلن ہے، جو فی کس یومیہ 30 گیلن استعمال کی بنیاد پر ہے۔ یہ نظام یونیورسٹی کے تعلیمی بلاکس، ہاسٹلز اور رہائشی علاقوں میں فلٹر شدہ پانی کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنائے گا۔ یہ منصوبہ جامعہ سندھ میں زیر تعلیم 43000 طلباء کی پانی کی ضروریات کو پورا کرے گا۔ منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے محمد سلیم بلوچ نے کہا کہ اس میں پمپ ہاؤسز کی تعمیر، اعلیٰ صلاحیت کی پمپنگ مشینری کی تنصیب اور وسیع پائپ لائن نیٹ ورکس بچھانا شامل ہے۔ کے بی فیڈر سے اسٹوریج ٹینکس تک ایک ہزار رننگ فٹ کی 24 انچ قطر کی رائزنگ مین بچھائی جائے گی، جبکہ 14 ہزار  رننگ فٹ کی ڈیلیوری مین سورس کو مرکزی یونیورسٹی واٹر ورکس سے جوڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی مؤثر ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے مختلف مقامات پر 75 بی ایچ پی (تین سیٹ)، 130 بی ایچ پی (تین سیٹ) اور 100 بی ایچ پی (چھ سیٹ) پر مشتمل پمپنگ مشینری نصب کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ فٹ گہرائی پر مشتمل 320310 x فٹ کے دو بڑے اسٹوریج ٹینکس اور 10 فٹ گہرائی کے 200105 x فٹ کے دو کلئیر واٹر ٹینکس بھی تعمیر کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے میں مزید پانچ آر سی سی فلٹر بیڈز (15085 x فٹ، زیادہ سے زیادہ چھ فٹ گہرے) کی تعمیر شامل ہے تاکہ سلو سینڈ فلٹریشن فراہم کی جا سکے، اس کے ساتھ ایک جدید ڈسٹری بیوشن سسٹم بھی ہوگا جو مختلف قطروں کی پائپ لائنز کے ذریعے سینکڑوں رننگ فٹ تک پھیلا ہوگا۔ انہوں نے  مزید کہا کہ اضافی سہولیات میں اسٹاف کوارٹرز، سمپ ویلز، انٹرکنیکشنز اور ۴ لاکھ مربع فٹ کے پیور بلاکس شامل ہوں گے۔انہوں نے کہا  کہ پانی کی صفائی کے اجزاء جیسے ایلم چیمبر اور ہائپو-کلورینیٹر بھی نصب کیے جائیں گے تاکہ محفوظ پینے کے پانی کے معیارات کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم میں 700 رننگ فٹ پر ریلوے اور روڈ کراسنگز، تین موجودہ کلئیر واٹر ٹینکس اور سورس پر تین اسٹوریج ٹینکس کی مرمت، 4 ہزار 180 رننگ فٹ کی کمپاؤنڈ وال کی تعمیر، 22 سولر اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب اور سائن بورڈز کی تنصیب بھی شامل ہے۔ وزیر اعلیٰ کے خصوصی معاون نے اس منصوبے کو یونیورسٹی میں بنیادی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے اور طلباء و عملے کو درپیش دیرینہ پانی کے مسائل کو حل کرنے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا۔  انہوں نے کہا کہ حکومت صوبے کے تعلیمی اداروں میں پائیدار اور معیاری پانی کی فراہمی کے نظام کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ دو سال کی مختصر مدت میں مکمل ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ ان کی نگرانی میں مکمل کیا جائے گا اور کیمپس میں پانی کے معیار اور دستیابی کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری نے کہا کہ سندھ حکومت کا جدید واٹر فلٹریشن اور سپلائی منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ عوامی شعبے کی جامعات میں بنیادی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے اس کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو ایک تاریخی قدم قرار دیا اور کہا کہ صاف پینے کے پانی تک رسائی سندھ یونیورسٹی میں تعلیمی اور رہائشی ماحول کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ اور محمد سلیم بلوچ کے اس اقدام کو سراہا اور کہا کہ یہ منصوبہ طلباء، فیکلٹی اور عملے کو درپیش دیرینہ پانی کے مسائل کو حل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی طور پر ڈیزائن کردہ نظام کے ذریعے فلٹر شدہ پانی کی فراہمی کیمپس میں بہتر صحت کے معیارات کو یقینی بنائے گی۔ ڈاکٹر مری نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ منصوبہ یونیورسٹی کی مستقبل کی توسیع میں اہم کردار ادا کرے گا اور اس کی آبادی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پائیدار انداز میں پورا کرے گا۔ اس سے قبل معاون خصوصی نے شیخ الجامعہ سندھ ، سیکریٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ و دیگر حکام کے ہمراہ کے بی فیڈر پر مقام اور پمپنگ اسٹیشن کا دورہ کیا۔

 

Author: Mrs. Shumaila Solangi 04/29/2026
Announcements
1024 x 768
Rs4.87bn water filtration project announced for Sindh University, minister says scheme to ...
View Details → 04/29/2026
1024 x 768
جامعہ سندھ کے لیے 4.87 ارب روپے کے واٹر فلٹریشن منصو...
View Details → 04/29/2026
1024 x 768
سنڌ يونيورسٽيءَ لاءِ 4.87 ارب روپين جي واٽر فلٽريشن...
View Details → 04/29/2026