شیخ الجامعہ سندھ کا طلباء کو مہارتوں اور موافقت پر توجہ دینے کا مشورہ، اصل تعلیم ذریعہ معاش نہیں بلکہ نوجوانوں کی کردار سازی میں بھی کردار ادا کرتی ہے، ڈاکٹر فتح محمد مری
جامعہ سندھ کے ایلسا قاضی کیمپس میں طلباء کی کامیابی کی نئی تشریح کے بارے میں ایک فکری اور مؤثر لیکچر منعقد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں طلباء و اساتذہ نے شرکت کی، جو سیکھنے اور ذاتی ترقی کے نئے پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے پرجوش نظر آئے۔ مذکورہ پروگرام انگریزی زبان و ادب کے خواہشمندوں کی سوسائٹی کی جانب سے، شعبہ انگریزی زبان و ادب، ایلسا قاضی کیمپس کے تعاون سے ترتیب دیا گیا۔ “طلبہ کی کامیابی پر ازسرنو غور، سیکھنے اور زندگی کے لیے تیاری” کے عنوان کے تحت منعقدہ اس نشست میں پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ ایجوکیشن فیکلٹی کے نیشنل انکیوبیشن سینٹر کے آڈیٹوریم میں منعقدہ تقریب صبح 10 بجے شروع ہوئی، جس میں نامور علمی شخصیات پروفیسر ڈاکٹر محمد خان سانگی، پروفیسر ڈاکٹر عبدالحمید پنہور، ڈاکٹر عابدہ صدیقی، ڈاکٹر حمیدہ ناریجو اور ڈاکٹر عبدالستار گوپانگ نے بھی شرکت کی۔ اپنے خطاب میں ڈاکٹر فتح مری نے روایتی تعلیمی کامیابی کے تصور کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ صرف نمبر یا ڈگریاں اب طلباء کی کامیابی کا مکمل معیار نہیں رہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایک وسیع اور جامع طریقہ کار اختیار کرنے کی ضرورت ہے، جو تنقیدی سوچ، عملی مہارتوں اور سماجی ذمہ داری کے مضبوط احساس کو فروغ دے۔ انہوں نے کہا کہ طلباء کو صرف امتحانات کے لیے نہیں بلکہ زندگی کے لیے تیار ہونا چاہیے اور تیزی سے بدلتی دنیا میں موافقت، تخلیقی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے کی اہلیت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے زندگی بھر سیکھنے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور طلباء کو تلقین کی کہ وہ کلاس روم سے باہر بھی تجسس اور خود تحریکی کے ساتھ سیکھنے کا عمل جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ایسی ہونی چاہیے جو لوگوں کو معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنائے، صرف معلومات کے حصول تک محدود نہ رکھے۔ طلبہ کو اپنے تعلیمی سفر کی ذمہ داری خود لینے کی ترغیب دیتے ہوئے وائس چانسلر نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ ہم نصابی سرگرمیوں میں حصہ لیں، بامقصد مباحثوں میں شامل ہوں اور ایسے مواقع تلاش کریں جو علمی اور ذاتی نشوونما دونوں میں معاون ثابت ہوں۔ انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس بات پر زور دیا کہ حقیقی کامیابی علم کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے، اخلاقی اقدار کو برقرار رکھنے اور معاشرے پر مثبت اثر چھوڑنے میں ہے۔ اس سے قبل ڈاکٹر عبدالحمید پنہور نے مہمانِ خصوصی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ لیکچر موجودہ تعلیمی چیلنجز کے تناظر میں نہایت بروقت اور متعلقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی کامیابی پر ازسرنو غور کرنا انہیں مستقبل کی علمی و پیشہ ورانہ ضروریات کے لیے تیار کرنے کے لیے ضروری ہے۔ تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر محمد خان سانگی نے کہا کہ مقرر کی بصیرت افروز گفتگو میں طلباء کے سیکھنے کے لیے بہت کچھ موجود ہے۔