ڈائریکٹر جنرل ایچ ای سی اور شیخ الجامعہ سندھ کے درمیان مستحق طلبہ کے لیے اسکالرشپ کے مواقع بڑھانے پر گفتگو، سندھالوجی میوزیم کا دورہ
ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اسلام آباد کے ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ (ایچ آر ڈی) شعبے کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عائشہ اکرام کی زیر قیادت ایچ ای سی کے دو رکنی وفد نے شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری (ٹی آئی) سے ملاقات کی، جس کے دوران بینظیر انڈر گریجویٹ اسکالرشپ پروگرام اور ایچ ای سی کے دیگر اسکالرشپ پروگراموں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ وائس چانسلر کے دفتر میں ہونے والی ملاقات کے دوران مستحق، ذہین اور مالی طور پر کمزور طلبہ کو مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے اسکالرشپ پروگراموں پر عملدرآمد، ان کے بارے میں طلبہ کو آگاہی دینے، شفافیت اور مستقبل میں اسکالرشپ کے مواقع بڑھانے کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ڈاکٹر عائشہ اکرام کے ساتھ ایچ ای سی کے پروگرام کوآرڈینیٹر دارا شکوہ بھی موجود تھے۔ وفد نے وائس چانسلر کے ساتھ مالی معاونت کے خواہشمند طلبہ کو مزید بہتر سہولیات فراہم کرنے اور ادارے کے مضبوط بنائے گئے نظام کے بارے میں تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ وائس چانسلر ڈاکٹر فتح محمد مری (ٹی آئی) نے سندھ یونیورسٹی میں بڑی تعداد میں طلبہ کے داخلوں اور سندھ کے دور دراز، پسماندہ اور معاشی طور پر کمزور علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے میں یونیورسٹی کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبہ کی ایک بڑی تعداد ایسے خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے، جو مالی طور پر کمزور ہیں اور اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے اسکالرشپ اور دیگر مالی معاونت پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم تک سب کی یکساں رسائی کو یقینی بنانے کے لیے ایچ ای سی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پسماندہ اور غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی بڑی تعداد کو تعلیم فراہم کرنے والی سندھ یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کے لیے اسکالرشپ کی تعداد بڑھائی جائے۔ سندھ یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس فنانشل ایڈ آفس کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر قمرالدین نانگراج نے یونیورسٹی میں اسکالرشپ کے انتظام اور تقسیم کے شفاف نظام کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے وفد کو اسکالرشپ کے اشتہارات سے لے کر درخواستیں وصول کرنے اور ان کی جانچ پڑتال، طلبہ کی دستاویزات اور اہلیت کی تصدیق، انٹرویوز، امیدواروں کے انتخاب، مالی معاونت کی رقم جاری کرنے اور ریکارڈ محفوظ رکھنے تک پورے عمل کے بارے میں آگاہی دی۔ ایچ ای سی کے وفد نے مستحق طلبہ کو سہولیات فراہم کرنے اور اسکالرشپ کی درخواستوں کے عمل کو شفاف بنانے پر سندھ یونیورسٹی کی انتظامیہ اور اسٹوڈنٹس فنانشل ایڈ آفس کی کوششوں کو سراہا۔ ملاقات کے دوران ایچ ای سی اسلام آباد اور سندھ یونیورسٹی کے درمیان رابطے کو مزید بہتر بنانے، ادارے کے نظام کو مزید مضبوط کرنے اور موجودہ نیز مستقبل کے اسکالرشپ پروگراموں کے ذریعے طلبہ کے لیے مالی معاونت کے مواقع بڑھانے کے بارے میں بھی غور کیا گیا۔ اس موقع پر رجسٹرار ساجد قیوم میمن، ڈائریکٹر فنانس ذیشان میمن اور اسٹوڈنٹس فنانشل ایڈ آفس کے انچارج میاں احمد علیم پاشا بھی موجود تھے۔بعد ازاں ڈاکٹر عائشہ اکرام وائس چانسلر ڈاکٹر فتح محمد مری اور رجسٹرار ساجد قیوم میمن کے ہمراہ انسٹیٹیوٹ آف سندھالوجی پہنچیں، جہاں سندھالوجی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فیاض لطیف نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ ڈاکٹر عائشہ اکرام نے سندھالوجی میوزیم کے مختلف حصوں اور گیلریوں کا دورہ کیا اور وہاں محفوظ تاریخی نوادرات، دستکاری کی اشیاء، ثقافتی اشیاء اور نامور شخصیات کے زیر استعمال رہنے والی اشیاء کو بڑی دلچسپی سے دیکھا۔ ایچ ای سی کی ڈی جی نے میوزیم میں سندھ کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے اور اشیاء کو خوبصورتی سے ترتیب دے کر رکھنے کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ میوزیم میں موجود اشیاء کو جس ترتیب سے رکھا گیا ہے، اس سے سندھ کی شاندار تاریخ اور ثقافت کا بہترین تعارف ہوتا ہے۔ انہوں نے سندھالوجی کو سندھ یونیورسٹی کا ایک اہم تعلیمی، ادبی، تاریخی، تحقیقی اور ثقافتی ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے ادارے ملک کا قیمتی قومی اثاثہ ہیں، جن کی ترقی اور فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ وائس چانسلر ڈاکٹر فتح محمد مری نے ڈاکٹر عائشہ اکرام کو سندھ یونیورسٹی آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ سندھ یونیورسٹی ملک کے قدیم ترین اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے، جہاں کئی نامور علمی اور ادبی شخصیات نے اپنی تدریسی اور انتظامی خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسٹیٹیوٹ آف سندھالوجی سندھ یونیورسٹی کا ایک اہم علمی، ادبی اور ثقافتی ادارہ ہے، جسے ملک اور بیرونِ ملک بڑی شناخت حاصل ہے۔ وائس چانسلر نے کہا کہ سندھالوجی کے میوزیم اور ریسرچ لائبریری میں تاریخی، قدیم، ادبی اور ثقافتی مواد کا نہایت قیمتی ذخیرہ محفوظ ہے، جس میں کچھ ایسا مواد بھی موجود ہے، جو ملک کے دیگر اداروں میں موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ یونیورسٹی انتظامیہ سندھالوجی کی ترقی اور فروغ کے لیے مختلف پہلوؤں سے کوششیں کر رہی ہے اور اس ادارے کے ڈائریکٹر اور عملے کی محنت اور ذمہ داری سے کام کرنے کو بھی سراہا۔ اس موقع پر ڈاکٹر عائشہ اکرام کو سندھ کی روایتی سوغات، اجرکوں اور لنگی کے ساتھ سندھالوجی کی جانب سے شائع شدہ کتابیں بھی بطور تحفہ پیش کی گئیں۔ اس موقع پر ایچ ای سی کے پروگرام کوآرڈینیٹر دارا شکوہ، صوفی یونیورسٹی بھٹ شاہ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر امام الدین کھوسو، سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کے پروفیسر ڈاکٹر محمد اسماعیل کنبھر اور سندھالوجی کے عملداران واحد پارس ہیسباڑی، سلمیٰ شیخ اور دیگر بھی موجود تھے۔