جامعہ سندھ میں یومِ استحصالِ کشمیر منایا گیا، تنازعات کے پرامن حل پر زور، 5 اگست 2019ء میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کی پُرزور مذمت

جامعہ سندھ جامشورو میں گزشتہ روز یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ایک سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں مقررین نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے 5 اگست 2019ء کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے کے اقدام کی پُرزور مذمت کی۔ مقررین نے زور دیا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق مسئلۂ کشمیر کا پرامن حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ سیمینار کی صدارت شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری (تمغہ امتیاز) نے کی۔ تقریب میں مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم عقیلی، پرو وائس چانسلر سندھ یونیورسٹی مین کیمپس پروفیسر ڈاکٹر عبدالستار شاہ، چیئرمین شعبۂ پولیٹیکل سائنس پروفیسر ڈاکٹر غلام اکبر مہیسر، چیئرمین شعبۂ تاریخ پروفیسر ڈاکٹر عرفان شیخ، پاکستان اسٹڈی سینٹر کے استاد ڈاکٹر معشوق علی خواجہ، مختلف فیکلٹیوں کے ڈینز، تدریسی شعبوں کے چیئرپرسنز، ڈائریکٹرز، اساتذہ و طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کو بھارت نے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو یکطرفہ طور پر ختم کیا، جسے کشمیری عوام، پاکستان اور عالمی برادری کے متعدد حلقوں نے مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) خطے میں کشیدگی کے باعث طویل عرصے سے غیر فعال رہی ہے، جس کے سبب علاقائی ترقی اور استحکام متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے نئی دہلی میں سارک کی جانب سے قائم کردہ ساؤتھ ایشین یونیورسٹی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اور دیگر چند سارک ممالک کے طلباء پر پابندیاں عائد کی گئیں، جو علاقائی تعاون کی روح کے منافی ہیں۔ ڈاکٹر مری نے سر کریک تنازعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اب تک حل طلب معاملات میں سے ایک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضے کے باعث علاقائی امن، سرحدی تعلقات اور دوطرفہ تعلقات پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو سندھ طاس معاہدے سمیت تمام عالمی معاہدوں کا احترام کرنا چاہیے اور ان میں یکطرفہ تبدیلیاں نہیں لانی چاہئیں۔ مہران یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم عقیلی نے کہا کہ یومِ استحصالِ کشمیر صرف علامتی تقریبات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مسئلے کے حل کے لیے عملی اقدامات کی یاد دہانی کرانے والے دن کے طور پر منایا جانا چاہیے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرے، جو عالمی سطح پر متنازع تسلیم شدہ جموں و کشمیر کی حیثیت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ڈاکٹر عقیلی نے مزید کہا کہ 5 اگست 2019ء کو بھارت کے اقدامات سے بھارتی غیر قانونی قبضے کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی آئینی و سیاسی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے باعث علاقے کے عوام کی مشکلات مزید بڑھ گئیں۔ چیئرمین شعبۂ پولیٹیکل سائنس پروفیسر ڈاکٹر غلام اکبر مہیسر نے کہا کہ پاکستان نے اپنے سیاسی نقشے میں جموں و کشمیر کو متنازعہ علاقہ ظاہر کیا ہے اور کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے پرامن حل کی حمایت جاری رکھی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری خصوصاً اقوامِ متحدہ پر زور دیا کہ وہ تنازعے کے پرامن حل کے لیے مزید فعال کردار ادا کرے۔ چیئرمین شعبۂ تاریخ پروفیسر ڈاکٹر عرفان شیخ نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سفارتی و سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ یومِ استحصالِ کشمیر کے بارے میں آگاہی پروگرام 5 اگست 2019ء کے واقعات اور پاکستان کے مؤقف سے عوام کو آگاہ کرنے کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر معشوق علی خواجہ نے کہا کہ یومِ استحصالِ کشمیر کشمیری عوام سے یکجہتی کے اظہار اور عالمی قراردادوں کے مطابق تنازعے کے پرامن حل کی حمایت کے اعادے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کو بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے سے علاقے کی آئینی حیثیت بنیادی طور پر تبدیل ہو گئی اور سابق ریاست کو وفاقی انتظام کے تحت دو علاقوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کی خواہشات مستقبل میں کسی بھی حل کا بنیادی مرکز ہونی چاہئیں۔ قبل ازیں سندھ یونیورسٹی کے بیورو آف اسٹیگس کی جانب سے وی سی سیکریٹریٹ کے سینیٹ ہال میں منعقدہ سیمینار کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت انسٹیٹیوٹ آف لینگویجز کے استاد نظر حسین چانڈیو نے حاصل کی، جس کے بعد ملک کا قومی ترانہ بجایا گیا۔ قومی ترانے کے احترام میں ہال میں موجود تمام افسران کھڑے ہو گئے۔

Author: Mrs. Shumaila Solangi 08/06/2026
Announcements
1024 x 768
ملڪ جي جشن آزادي واري ڏهاڙي جي مناسبت سان سنڌ يوني...
View Details → 08/07/2026
1024 x 768
وطن عزیز کے جشنِ آزادی کی مناسبت سے جامعہ سندھ میں...
View Details → 08/07/2026
1024 x 768
Sindh University launches Independence Day plantation campaign, VC vows greener campus
View Details → 08/07/2026