شیخ الجامعہ سندھ نے بوائز ہاسٹلز میں پودا لگا کر شجرکاری مہم کا افتتاح کر دیا، طلباء کا ہاسٹلز میں لگائے گئے 500 پودوں کی دیکھ بھال کے عزم کا اظہار

جامعہ سندھ جامشورو کے لطیف اور سچل بوائز ہاسٹلز میں گزشتہ روز وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری (تمغہ امتیاز) نے پودا لگا کر شجرکاری مہم کا افتتاح کیا۔ مہم کے دوران یونیورسٹی کے سینکڑوں طلبہ، طالبات، اساتذہ، افسران و ملازمین نے بڑے جوش اور جذبے کے ساتھ حصہ لیتے ہوئے 500 کے قریب مقامی پودے لگائے اور انہیں درخت بننے تک اپنی ذمہ داری سمجھ کر سنبھالنے کا عزم دہرایا۔ شجرکاری مہم کا مشترکہ اہتمام جامعہ سندھ کے جغرافیہ شعبے، گرین یوتھ موومنٹ اور پرووسٹ آفس کی جانب سے کیا گیا۔ شجرکاری مہم کے دوران طلبہ و طالبات نے جوش و جذبے کے ساتھ پودے لگائے اور اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ وہ سخت گرمی اور خشک موسم کے دوران ان پودوں کی ذاتی طور پر دیکھ بھال کریں گے تاکہ یہ محفوظ رہ کر بڑھ کر درخت بن سکیں اور یونیورسٹی کیمپس کو سرسبز اور ماحول کو صحت مند بنانے میں کردار ادا کریں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر فتح محمد مری نے جغرافیہ شعبے، گرین یوتھ موومنٹ اور پرووسٹ آفس کو شجرکاری مہم منعقد کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہر طالب علم کو یونیورسٹی یا اپنے گاؤں اور علاقے میں کم از کم ایک پودا ضرور لگا کر بڑا کرنا چاہیے، انہیں برسات کے موسم اور یوم آزادی کے موقع پر شجرکاری کو ضرور فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پودا لگانا صرف آغاز ہے، اس کا اصل فائدہ تب حاصل ہوگا، جب اس کے درخت بننے تک مسلسل دیکھ بھال کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مہم کے دوران لگائے گئے پودوں کی بقا اور مناسب نشوونما کو یقینی بنانے کی ذمہ داری ہاسٹل انتظامیہ، جغرافیہ شعبے، گرین یوتھ موومنٹ اور ہاسٹلر طلباء پر ہوگی۔ وائس چانسلر نے کہا کہ بلاکس ہاسٹل کی جلد مرمت کرا کے اسے طلباء کے لیے دوبارہ بحال کیا جائے گا۔ انہوں نے طلباء سے مخاطب ہوتے ہوئے تاکید کی کہ والدین انہیں تعلیم و تربیت کے لیے یونیورسٹی بھیجتے ہیں، لہٰذا انہیں محنت اور شاندار کارکردگی کے ذریعے کچھ بن کر والدین کے اعتماد کا بدلہ دینا چاہیے۔ ڈاکٹر مری نے اعلان کیا کہ آئندہ سوموار کو 1100 سے زائد مستحق طلباء میں سوا 5 کروڑ روپے سے زائد رقم کے چیک تقسیم کیے جائیں گے۔ انہوں نے طلبہ کو سائنس، میوزک، زولوجی، باٹنی اور آرٹ سوسائٹیوں کے ساتھ اسٹڈی سرکلز قائم کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ جو طلباء ایسی سرگرمیوں کا آغاز کریں گے، وہ مستقبل میں ان سوسائٹیوں کے بانی اور رہنما کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔ سندھ یونیورسٹی کے طلبہ کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ ڈاکٹر این اے بلوچ ماڈل اسکول کے ایک طالب علم نے حیدرآباد بورڈ سے حال ہی میں دوسری پوزیشن حاصل کی ہے، جبکہ سندھ یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے ایچ ای سی کی جانب سے حال ہی میں اسلام آباد میں منعقد کیے گئے مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی، جس میں پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے تقریباً 34 ہزار طلباء نے حصہ لیا۔ ماحولیاتی ماہر ناصر علی پنہور نے کہا کہ فلپائن کی کچھ یونیورسٹیوں میں طلباء کو ڈگریاں دینے کے لیے کم از کم ایک پودا لگانے اور اس کی دیکھ بھال کرنے کی شرط رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ درختوں کی دیکھ بھال بھی بچوں کی پرورش کی طرح مسلسل توجہ اور محبت سے کرنی پڑتی ہے، لہٰذا طلباء صبر اور ذمہ داری سے لگائے گئے پودوں کی پرورش کریں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ماحولیاتی بگاڑ سے بچنے کے لیے ہمیں بھی فلپائن کی یونیورسٹیوں والی شرط سندھ کی یونیورسٹیوں میں لاگو کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آج پودے لگانے والے طلبہ مستقبل میں ان درختوں کے سائے سے فائدہ حاصل کرنے کے ساتھ ماحولیاتی تحفظ میں اپنے حصے کے کردار پر فخر بھی محسوس کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کی مشترکہ کوششیں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے اور قدرتی ماحول کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ڈویژنل فاریسٹ آفیسر عمران بھٹو نے کہا کہ انہوں نے سندھ یونیورسٹی کو 500 مقامی نسل کے پودے عطیے کے طور پر دیے ہیں۔ انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ ان پودوں کی اس وقت تک حفاظت اور دیکھ بھال یقینی بنائیں، جب تک یہ بڑے درخت بن جائیں۔ڈاکٹر عرفانہ ملاح نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک بڑا چیلنج ہے، جس کا سامنا کرنے کے لیے مستقل اور عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ یونیورسٹی میں مختلف مراحل کے دوران تقریباً 10 ہزار پودے لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پودا لگانا کوئی بڑا کام نہیں ہے، لیکن اسے بچے کی طرح پالنے اور سنبھالنے کی ضرورت ہے، جو اصل مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلباء چار سال ہاسٹلز میں رہتے ہیں، لہٰذا انہیں اپنے اردگرد لگائے گئے پودوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی اٹھانی چاہیے۔تقریب میں پرو وائس چانسلر مین کیمپس پروفیسر ڈاکٹر عبدالستار شاہ، پرو وائس چانسلر دادو کیمپس پروفیسر ڈاکٹر انیلا ناز سومرو، رجسٹرار ساجد قیوم میمن، مختلف فیکلٹیز کے ڈینز، انسٹیٹیوٹس کے ڈائریکٹرز، مختلف شعبوں کے چیئرپرسنز، تدریسی و انتظامی سربراہان، اساتذہ، افسران، ملازمین اور طلبہ و طالبات بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔

Author: Mrs. Shumaila Solangi 08/24/2026
Announcements
1024 x 768
Sindh University students pledge to nurture 500 saplings planted at hostels
View Details → 08/24/2026
1024 x 768
سنڌ يونيورسٽي جي وائيس چانسيلر بوائيز ھاسٽلن ۾ ٻو...
View Details → 08/24/2026
1024 x 768
شیخ الجامعہ سندھ نے بوائز ہاسٹلز میں پودا لگا کر ش...
View Details → 08/24/2026