جامعہ سندھ کے شہید محترمہ بینظیر بھٹو چیئر اینڈ کنونشن سینٹر کی جانب سے “بینظیر انکم سپورٹ پروگرام: امکانات، مسائل اور لائحہ عمل” کے موضوع پر ڈائیلاگ سیشن منعقد، وائس چانسلر ڈاکٹر فتح محمد مری نے صدارت کی، نامور معاشی ماہر ڈاکٹر قیصر بنگالی، ڈاکٹر عرفانہ بیگم ملاح اور ڈاکٹر رونق علی بہن نے بطور مقرر خیالات کا اظہار کیا
جامعہ سندھ جامشورو کے شہید محترمہ بینظیر بھٹو چیئر اینڈ کنونشن سینٹر کی جانب سے “بینظیر انکم سپورٹ پروگرام: امکانات، مسائل اور لائحہ عمل” کے موضوع پر ڈائیلاگ سیشن منعقد کیا گیا۔ اس سیشن کی صدارت شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری (تمغہ امتیاز) نے کی، جبکہ مقرر خصوصی ملک کے نامور معاشی ماہر، پبلک پالیسی ایکسپرٹ اور پلاننگ کمیشن آف پاکستان کے سابق رکن ڈاکٹر قیصر بنگالی تھے۔ دیگر مقررین میں ڈائریکٹر ڈاکٹر ایم اے قاضی انسٹیٹیوٹ آف کیمسٹری پروفیسر ڈاکٹر عرفانہ بیگم ملاح اور ایریا اسٹڈی سینٹر فار ایسٹ اینڈ ساؤتھ ایسٹ ایشیا کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر رونق علی بہن تھے۔ اس تقریب کی نظامت کے فرائض چیئرمین ڈپارٹمنٹ آف اینتھروپالوجی اینڈ آرکیالوجی ڈاکٹر عبدالرزاق چنہ نے انجام دیئے ۔ تقریب سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو حکومت کا اہم پروگرام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے پورے ملک میں ایک کروڑ سے زائد غریب طبقے کی خواتین کو مالی مدد حاصل ہو رہی ہے، جس سے وہ اپنی خوراک سمیت دوسری ضروریات پوری کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خالص عوامی فلاحی پروگرام ہے، جس میں مزید بہتری کی گنجائش ضرور موجود ہے، لیکن اسے بے جا سیاسی مفروضوں کی نذر نہیں کرنا چاہیے، اس پروگرام سے پورے ملک کا غریب اور ضرورت مند طبقہ بغیر کسی سیاسی فرق کے فائدہ حاصل کر رہا ہے۔ وائس چانسلر نے معزز مہمان ڈاکٹر بنگالی کو جامعہ سندھ تشریف لانے پر خوش آمدید کہا اور ڈائریکٹر شہید محترمہ بینظیر بھٹو چیئر اینڈ کنونشن سینٹر ڈاکٹر ریحانہ ملاح کی جانب سے اہم موضوع پر سیشن منعقد کرنے کی کوشش کو سراہا۔ اس موقع پر خصوصی مقرر ڈاکٹر قیصر بنگالی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں 1980ء سے سندھ یونیورسٹی میں آ رہا ہوں اور یہاں آ کر میں نے ہمیشہ خوشی محسوس کی ہے۔ موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انکم سپورٹ پروگرام کا خاکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا ہے، جس کا مقصد ملک کے غریب طبقے خصوصاً خواتین کی مالی معاونت کرنا تھا، جسے ان کی ہی پارٹی کی حکومت نے 2008ء میں عملی جامہ پہنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ اس اہم پروگرام کی بنیادی تشکیل میں میرا کردار بھی شامل ہے۔ ڈاکٹر بنگالی نے کہا کہ اس پروگرام کو غربت کے خاتمے کے سوال سے نہیں جوڑا جا سکتا، کیونکہ اس پروگرام کا مقصد غربت کا خاتمہ نہیں بلکہ غریب طبقے کی مالی معاونت کرکے ان کی مالی مشکلات کو کچھ کم کرنا ہے۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ یہ پیسے ملنے کے بعد لوگ روزگار کرنا چھوڑ دیں گے تو ایسا ہرگز نہیں ہے۔ کیونکہ اگر آپ کا ماہانہ خرچ 40 ہزار ہے تو یہ صرف اس کی 10 فیصد مدد ہے، اس لیے اس پر مکمل انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس پروگرام کی مخالفت بھی ہوتی رہی ہے، لیکن 18 سال سے مسلسل اس پروگرام کے جاری رہنے کے پیچھے آئی ایم ایف کا تعاون، خصوصی دلچسپی اور مانیٹرنگ شامل ہے۔ ڈاکٹر قیصر بنگالی نے مزید کہا کہ اس پروگرام کو نادرا کے ڈیٹا بیس سے جوڑنے سے نہ صرف شفافیت کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات میں کمی آئی ہے، بلکہ لاکھوں خواتین کو شناختی کارڈ بنوانے کا بھی موقع ملا ہے۔ انہوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام میں ہونے والی اوور ایمپلائمنٹ کم کی جائے، مزید ضرورتمند لوگوں کو رجسٹر کرکے مالی فائدہ دینے کے ساتھ انہیں ملنے والی رقم میں بھی اضافہ کیا جائے۔ اس سے قبل ڈائریکٹر شہید محترمہ بینظیر بھٹو چیئر اینڈ کنونشن سینٹر ڈاکٹر ریحانہ ملاح نے اپنے استقبالیہ خطاب میں معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور ڈائیلاگ سیشن کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر انہوں نے وائس چانسلر کے تعاون کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا۔ ڈائیلاگ سیشن میں گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر عرفانہ بیگم ملاح نے کہا کہ شہید بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام نہ صرف کروڑوں غریب خاندانوں کی مالی معاونت کا ذریعہ ہے بلکہ اس پروگرام سے پسماندہ علاقوں کی خواتین کے شعور میں اضافے کے ساتھ انہیں بااختیار ہونے کا موقع بھی ملا ہے اور ان کی عزت اور اہمیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کو سیاست کی نذر نہ کیا جائے، ماضی میں سیاسی بنیادوں پر اس پروگرام سے شہید بینظیر بھٹو کا نام ہٹا کر اس کا نام تبدیل کیا گیا، جبکہ اس پروگرام کا خاکہ شہید بینظیر بھٹو ہی کا دیا ہوا ہے اور ملک اور قوم کے لیے ان کی دی ہوئی قربانی مثالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ اس پروگرام کے پیچھے مقصد ووٹ لینا ہے، اس پروگرام سے تمام مستحق خواتین فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں خواتین کے کارڈ نہ بنے ہونے کی وجہ سے وہ کسی گنتی میں ہی نہیں ہوتی تھیں، لیکن اس پروگرام کے شروع ہونے سے ان کے کارڈ بنے ہیں اور انہیں ووٹ کا حق بھی حاصل ہوا ہے، پہلے الیکشن کے موقع پر صرف مردوں کے کیمپ قائم ہوتے تھے، اب خواتین کے بھی کیمپ قائم ہوتے ہیں اور ان کے ووٹ کی اہمیت بڑھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کی وجہ سے خواتین کو گھروں سے باہر نکلنے اور ایک دوسرے سے ملنے جلنے کا بھی موقع ملا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر رونق علی بہن نے 2022ء میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے “ضلع سانگھڑ میں خواتین کے ووٹنگ کے رویے پر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اثرات کا جائزہ” پر بطور پرنسپل انویسٹیگیٹر کی گئی تحقیق کی تفصیلات، تجربات اور نتائج بیان کرتے ہوئے بتایا کہ تحقیق کے دوران خاص طور پر مزدور اور کسان خواتین کی اکثریت اس پروگرام سے بہت زیادہ خوش نظر آئیں۔ اس موقع پر سوالات جوابات کا سیشن بھی ہوا اور ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر نانک رام، فلسفہ شعبے کی چیئرپرسن امر سندھو، ڈاکٹر ریحانہ ملاح، ڈاکٹر رفیق وسان، ڈاکٹر عمران ہالیپوٹو، ڈاکٹر شاه مراد چانڈیو، ڈاکٹر سوجومل، ڈاکٹر آصف جمالی، ڈاکٹر شازیہ شیخ اور دیگر نے مقررین سے موضوع سے متعلق سوالات پوچھے، جن کے انہوں نے تفصیل سے جواب دیے۔ اس موقع پر شہید محترمہ بھٹو چیئر اینڈ کنوینشن سینٹر کی جانب سے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے جنم دن کے موقع پر حال ہی میں شائع کردہ خصوصی نیوز لیٹر کی رونمائی بھی کی گئی۔اس پروگرام میں رجسٹرار جامعہ سندھ ساجد قیوم میمن، ڈین فیکلٹی آف آرٹس ڈاکٹر محمد خان سانگی، ڈین فیکلٹی آف انجینئرنگ ڈاکٹر لچھمن داس دھومیجا، مختلف شعبوں کے سربراہان اور اساتذہ ڈاکٹر احمد علی بروہی، ڈاکٹر نور محمد شاہ، ڈاکٹر نواب کاکا، ڈاکٹر شجاع احمد مہیسر، ڈاکٹر سید سردار علی شاہ، ڈاکٹر محمد قاسم نظامانی، ڈاکٹر پنہل لاشاری، ڈاکٹر خالد حسین لاشاری، ڈاکٹر امبرین زیب خاصخیلی، حمیرا ہکڑو، شبانہ تنیو، ڈاکٹر حسین مسرت شاہ، ڈاکٹر یونس لغاری، ڈاکٹر مکیش کمار کھٹوانی، ڈاکٹر عبدالرحمان نانگراج سمیت طلباء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ آخر میں ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر نانک رام نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔