سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور جامعہ سندھ جامشورو کے مشترکہ تعاون سے کراچی میں قومی خیرپور کھجور فیسٹیول منعقد

 سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور جامعہ سندھ جامشورو کے مشترکہ تعاون سے پرل کانٹی نینٹل (پی سی) ہوٹل کراچی میں قومی خیرپور کھجور فیسٹیول منعقد کیا گیا، جس کا افتتاح سندھ حکومت کے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے صوبائی وزیر محمد اسماعیل راہو نے کیا۔ تقریب کی صدارت ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم طارق رفیع (ستارۂ امتیاز) نے کی، جبکہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے صوبائی وزیر محمد اسماعیل راہو تقریب کے مہمان خصوصی اور یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے سیکریٹری محمد عباس بلوچ اعزازی مہمان تھے۔

اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے صوبائی وزیر محمد اسماعیل راہو نے کہا کہ اس نوعیت کے فیسٹیولز زراعت کے فروغ اور اس کی ترقی کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتنا شاندار پروگرام منعقد کرنے پر سندھ ایچ ای سی اور جامعہ سندھ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ سمیت پورے پاکستان کی کھجور کی عالمی مارکیٹ کو وسعت دینے کے لیے گریڈنگ اور پیکنگ وغیرہ کو عالمی معیار کے مطابق لانا ہوگا، جب تک ایسا نہیں کیا جائے گا مطلوبہ فوائد حاصل نہیں کیے جا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کھجور کی 500 اقسام بتائی جاتی ہیں، جبکہ ہمارے ہاں کہیں 200، کہیں ڈھائی سو اور کہیں 300 اقسام بتائی جاتی ہیں۔ تحقیق کے ذریعے درست ڈیٹا مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھجور کی پیداوار، مارکیٹ اور تحقیق کے لیے سندھ حکومت مکمل مواقع فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے وسائل کو باہمی تعاون سے سپورٹ کرنا ہوگا۔

سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم طارق رفیع نے اپنے خطاب میں کہا کہ زراعت کا ملکی معیشت میں اہم کردار ہے۔ قومی خیرپور کھجور فیسٹیول کے انعقاد کا مقصد کھجور کی فصل کے لیے مارکیٹ کے مواقع بڑھانا اور اس پر تحقیق کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے جامعات میں زراعت سمیت تمام شعبوں میں تحقیق کے لیے بھرپور مواقع فراہم کیے ہیں اور اس مقصد کے لیے مکمل معاونت کی ہے، جو سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ جامعات، آبادگاروں اور صنعتوں کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے اور کوشش کرنی چاہیے کہ تحقیق کے ثمرات س عام لوگوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ فیسٹیول قومی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں کھجور کی پیداوار کو فروغ دے گا۔ انہوں نے نوجوانوں کو تحقیق کی جانب زیادہ سے زیادہ توجہ دینے کا مشورہ دیتے ہوئے انہیں سندھ ایچ ای سی کی مکمل معاونت کا یقین دلایا۔ انہوں نے بہترین پروگرام کے انتظامات پر جامعہ سندھ کے وائس چانسلر اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے مبارکباد بھی دی۔

تقریب کے آغاز میں اپنے استقبالیہ خطاب میں جامعہ سندھ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری (تمغۂ امتیاز) نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور خیرپور کھجور فیسٹیول کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں کھجور پیدا کرنے والا ایک اہم ملک ہے، جہاں بڑی مقدار میں کھجور پیدا ہوتی ہے، جبکہ بالخصوص سندھ کا ضلع خیرپور کھجور کا مرکز ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی خیرپور کھجور فیسٹیول کے انعقاد کا مقصد کھجور کی اہمیت اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی پیداوار بڑھانا اور مارکیٹ کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھجور کی سپلائی چین کو بہتر بنانے اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی ضرورت ہے۔ کھجور کی برآمدات سے اربوں روپے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک کے مقابلے میں ہمارے ہاں مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باعث بارشوں سے کھجور کو بہت زیادہ نقصان پہنچتا ہے، جس سے بچاؤ کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔ وائس چانسلر نے جامعہ سندھ کے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے طلبہ کی محنت کو سراہا، جنہوں نے شاندار پروگرام کا انعقاد کیا۔ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے سیکریٹری محمد عباس بلوچ نے کہا کہ اس سے قبل خیرپور میں کھجور فیسٹیول منعقد کیا گیا تھا اور اس کے تسلسل کو دیکھ کر بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھجور خیرپور کی اہم فصل ہے اور یہ قدرت کی طرف سے ایک بڑا انعام ہے۔ اس فصل کو زیادہ سے زیادہ سپورٹ کرکے آبادگاروں اور تاجروں کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے اور انہیں معاشی فوائد کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد یوسف خشک نے کہا کہ خیرپور کی کھجور صرف فصل یا پھل نہیں بلکہ وہاں کے لوگوں کے معاش کا اہم ذریعہ بھی ہے۔ کھجور کی جڑیں صرف وہاں کی زمین میں نہیں بلکہ لوگوں کے دلوں اور وہاں کی ثقافت میں بھی پیوست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو مارکیٹ سے جوڑنے میں جامعات کا اہم کردار ہے۔

سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام کے سینئر پروفیسر ڈاکٹر محمد اسماعیل کنبھر نے کہا کہ یہ انتہائی اہم فیسٹیول ہے، جس کے انعقاد پر منتظمین مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیرپور کی کھجور ذائقے میں منفرد ہے اور عالمی سطح پر اسے بہت پسند کیا جاتا ہے، اس لیے عالمی مارکیٹ میں زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور کے پروفیسر اور کھجور پر شاندار تحقیق پر عالمی ایوارڈ حاصل کرنے والے پروفیسر ڈاکٹر غلام سرور مرکھنڈ نے کھجور کے حوالے سے تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔ اس موقع پر سید ندیم شاہ جاموٹ اور حافظ عبدالحلیم نے بھی اظہار خیال کیا۔ آخر میں سندھ ایچ ای سی کی ڈائریکٹر میمونہ شاہ نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

تقریب کی نظامت کے فرائض فیسٹیول کے فوکل پرسن اور انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے استاد ڈاکٹر فرحان زیب خاصخیلی، ماروی ملاح اور ماہ نور سلیم نے انجام دیے۔

اس موقع پر صوبائی وزیر محمد اسماعیل راہو، سندھ ایچ ای سی کے چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم طارق رفیع، جامعہ سندھ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری اور دیگر معزز مہمانوں نے فیسٹیول میں قائم مختلف اسٹالز کا دورہ کیا اور وہاں رکھی گئی کھجور کی مختلف اقسام، دستکاری کی اشیاء اور آرٹ پینٹنگز کو بڑی دلچسپی سے دیکھا اور ان کی تعریف کی۔ تقریب میں وائس چانسلر نے صوبائی وزیر و دیگر مہمانوں کو اجرک و لنگی کے تحفے کے ساتھ شیلڈز بھی پیش کیں. آخر میں موسیقی کی محفل منعقد ہوئی، جس میں نامور فنکار فہیم علن اور داروش بینڈ نے اپنے فن کا مظاہرہ کرکے محفل کو گرمایا۔

اس فیسٹیول میں سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے تاجروں کی جانب سے 20 سے زائد اسٹالز قائم کیے گئے تھے، جہاں چاروں صوبوں کی کھجور کی مختلف مشہور اقسام نمائش کے لیے رکھی گئی تھیں۔

اس موقع پر جامعہ سندھ کے انسٹی ٹیوٹ آف آرٹ اینڈ ڈیزائن کی جانب سے آرٹ گیلری قائم کی گئی تھی، جس میں انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ کی جانب سے کھجور کے حوالے سے تیار کردہ مکس میڈیا اور کولاج پینٹنگز نمائش کے لیے رکھی گئی تھیں۔ جبکہ جامعہ سندھ کے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے اسٹال پر انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ کی جانب سے کھجور اور خشک میوہ جات سے تیار کردہ بسکٹ اور لڈو کے مختلف آئٹمز نمائش کے لیے رکھے گئے تھے۔ انسٹی ٹیوٹ آف بائیو کیمسٹری کے شعبہ نیوٹریشن اینڈ فوڈ سائنسز کی جانب سے قائم اسٹال پر طلبہ کی تیار کردہ کھجور سے بنے کیک، لڈو اور چٹنی کے آئٹمز رکھے گئے تھے۔ جبکہ سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن کے اسٹال پر دستکاری کی اشیاء، جن میں کھجور کے پتوں سے بنی پنڈیاں، ٹبنے، اجرک، چادریں اور رلیاں وغیرہ شامل تھیں، نمائش کے لیے رکھی گئی تھیں۔

فیسٹیول میں صوفی یونیورسٹی بھٹ شاہ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر امام الدین کھوسو، جامعہ سندھ کی فیکلٹی آف کامرس اینڈ بزنس ایڈمنسٹریشن کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر جاوید احمد چانڈیو، فیکلٹی آف فارمیسی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد علی گھوٹو، سابق وزیر مبین جمانی، آئی او بی ایم کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر طارق رحیم سومرو، فاسٹ یونیورسٹی کے ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ ڈاکٹر ذوالفقار علی میمن، ڈاکٹر ہما بخاری، روٹری کلب کے اسلم بلوچ، جامعہ سندھ کے کنٹرولر امتحانات محمد معشوق صدیقی، ڈائریکٹر بیورو آف اسٹیگس اجوید احمد بھٹی، انسٹی ٹیوٹ آف آرٹ اینڈ ڈیزائن کے ڈائریکٹر پروفیسر سعید احمد منگی، پرووسٹ گرلز ہاسٹل ڈاکٹر فرحت نورین، جامعہ سندھ کے مختلف شعبوں کے اساتذہ ڈاکٹر امید علی رند، ڈاکٹر عبدالرحمان نانگراج، ڈاکٹر محمد عقیل بھٹو، ڈاکٹر اکرم کھتری، ڈاکٹر احمد شاہ، ڈاکٹر محمد اسلم سولنگی سمیت جامعہ سندھ جامشورو، سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام اور شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور کے اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔

 

Author: Mrs. Shumaila Solangi 09/20/2026
Announcements
1024 x 768
سنڌ هائير ايجوڪيشن ڪميشن ۽ سنڌ يونيورسٽي ڄامشوري...
View Details → 09/20/2026
1024 x 768
سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور جامعہ سندھ جامشورو ک...
View Details → 09/20/2026
1024 x 768
Sindh HEC and University of Sindh jointly hold National Khairpur Khajoor Festival in Karac...
View Details → 09/20/2026