چین اور پاکستان دکھ سکھ کے ساتھی ہیں، چینی زبان سیکھنے سے کامیابی کے لاتعداد مواقع حاصل کیے جا سکتے ہیں، ڈاکٹر فتح محمد مری چائنیز 6 ہزار سال پرانی زبان ہے، چین اپنے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیادہ سے زیادہ اسکالرشپس کے مواقع دینے والا ملک ہے، ڈاکٹر طاہر ممتاز اعوان
جامعہ سندھ کے ایریا اسٹڈی سینٹر فار ایسٹ اینڈ ساؤتھ ایسٹ ایشیا کی جانب سے “چینی زبان کی اسکالرشپس اور طلبہ کے تبادلے کے پروگرام کا جائزہ” کے موضوع پر سیمینار منعقد کیا گیا، جس کی صدارت شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری (تمغہ امتیاز) نے کی۔ انسٹیٹیوٹ آف سندھالوجی کے پیر حسام الدین راشدی آڈیٹوریم میں منعقد ہونے والی اس تقریب کے خصوصی مقرر سرگودھا یونیورسٹی کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف چائنا اسٹڈیز کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر طاہر ممتاز اعوان تھے۔ دیگر مقررین میں اکیڈمی آف ماڈرن لینگویجز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد عظیم احمد انصاری اور سندھ یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف میتھمیٹکس اینڈ کمپیوٹر سائنس کے استاد اور نامور مصنف ڈاکٹر شاہ مراد چانڈیو تھے۔ تقریب کی ابتدا تلاوت کلام پاک سے کی گئی، اس کے بعد پاکستان اور چین کے قومی ترانے پیش کیے گئے۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری نے کہا کہ چین اور پاکستان ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی ہیں، 75 سال پرانی یہ دوستی پوری دنیا میں مثالی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین دنیا کا تیزی سے ترقی کرنے والا ملک ہے، جس کی ترقی کا راز وہاں کے لوگوں کی سخت محنت اور اپنی تمام تر توجہ اپنے کام پر دینا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ آپ چین کی کسی بھی انڈسٹری میں چلے جائیں، وہاں کام کرنے والے 90 فیصد ورکر اپنے کام میں اتنے مگن نظر آئیں گے کہ آپ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھیں گے۔ اصل میں کسی بھی ملک اور ادارے کی ترقی کے لیے ایسے ہی جذبے اور کمٹمنٹ کی ضرورت ہے۔ وائس چانسلر نے کہا کہ چین ٹیکنالوجی اور اکانومی میں دنیا میں نمبر ون کے مقابلے میں شامل ہے، انٹرنیشنل مارکیٹ پر اس کی پروڈکٹ تیزی سے غلبہ حاصل کر رہی ہیں، ایسی صورتحال میں چینی زبان سیکھنے کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ چینی زبان سیکھنے سے نہ صرف چین میں اسکالرشپس کے ذریعے اعلیٰ تعلیم کے بھرپور مواقع حاصل کیے جا سکتے ہیں بلکہ اس خطے سمیت پوری دنیا میں روزگار کے بھی شاندار مواقع حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ وائس چانسلر نے کہا کہ سندھ یونیورسٹی کا چین کی انتہائی اہم یونیورسٹیوں کے ساتھ رابطہ کاری کا نظام جڑا ہوا ہے، جس کے تحت یہاں کے طلبہ اور فیکلٹی ممبران کو اسکالرشپس کے مواقع ملتے رہتے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ اپنے طلبہ کو چین میں انٹرن شپ اور ٹریننگ کے مواقع بھی دلوائیں تاکہ انہیں کیریئر کے حوالے سے فائدہ مل سکے، اس کے لیے چینی زبان آنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی سمیت کسی بھی ملک کی زبان سیکھنے سے وہاں کی ثقافت کو سمجھنے اور مواقع سے فائدہ اٹھانے میں آسانی ہوتی ہے۔ چینی زبان سیکھنے کا پروگرام شروع کرنے کا مقصد بھی یہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی زبان کے ساتھ ہم فرانسیسی، جرمن اور دیگر زبانوں کی تعلیم کے پروگرام بھی شروع کر رہے ہیں تاکہ طلبہ کو اپنے اسکلز بڑھانے کا زیادہ سے زیادہ موقع مل سکے۔ وائس چانسلر نے ایریا اسٹڈی سینٹر کی ڈائریکٹر اور ان کی ٹیم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ پروگرام طلبہ کے مستقبل کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ اس موقع پر سوشل سائنسز فیکلٹی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر نانک رام نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک کے بعد خطے میں چین کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ چائنیز زبان سیکھنے سے اسکالرشپس اور چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کے مواقع حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کام کرنے والی چائنیز کمپنیوں میں ٹرانسلیٹرز کی بہت زیادہ ضرورت ہے، جس کا وہ اچھا پیکیج دیتے ہیں۔ اس سے قبل ایریا اسٹڈی سینٹر کی ڈائریکٹر ڈاکٹر عشرت افشاں عباسی نے اپنے استقبالیہ خطاب میں شریک مہمانوں کو خوش آمدید کہا، وائس چانسلر کے تعاون اور حوصلہ افزائی کا شکریہ ادا کیا اور سیمینار کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ آج سے چینی زبان سیکھنے کی کلاسز شروع ہو رہی ہیں اور اب تک 40 طلبہ اس پروگرام میں داخلہ لے چکے ہیں۔ سیمینار کے خصوصی مقرر ڈاکٹر طاہر ممتاز اعوان نے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے آن لائن خطاب میں کہا کہ دنیا میں چائنیز زبان کی اہمیت دن بدن بڑھ رہی ہے، یہ زبان جاننے والے کا مستقبل روشن ہے اور اس کے آگے بڑھنے کے بہت زیادہ مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی کوئی بھی زبان مشکل نہیں، بس توجہ سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کچھ سال قبل جب میں چین پی ایچ ڈی کرنے گیا تھا تو مجھے چائنیز زبان کا ایک لفظ بھی نہیں آتا تھا اور آج میں چائنیز زبان میں لیکچر دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی کی ویب سائٹ پر چین کی ٹاپ رینکنگ یونیورسٹیوں میں اسکالرشپس کے بہت زیادہ مواقع آتے ہیں، جن سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے۔ انہوں نے سندھ یونیورسٹی میں چائنیز زبان سکھانے کا پروگرام شروع کرنے پر وائس چانسلر اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دی اور اس حوالے سے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ اس موقع پر محمد عظیم احمد انصاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ چائنیز 6 ہزار سال پرانی زبان ہے، انہوں نے کہا کہ چین اپنے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیادہ سے زیادہ مواقع دینے والا ملک ہے جو ہر سال لاکھوں اسکالرشپس کا اعلان کرتا ہے، جن میں سے نصف سے زیادہ خالی رہ جاتی ہیں، اس لیے زیادہ سے زیادہ آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اسکالرشپس کے تحت مفت تعلیم دینے کے ساتھ مفت رہائش اور ایک سے ڈیڑھ لاکھ پاکستانی روپے تک کھانے پینے کا خرچ بھی دیتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ یونیورسٹی میں چھ ماہ کے اس کورس میں ایچ ایس کے 1 اور ایچ ایس کے 2 کی لیول کروائی جائے گی اور یہ لیول کرنے کے بعد طلبہ چائنیز زبان پر کافی حد تک عبور حاصل کر لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کا محکمہ تعلیم اپنے 8000 اسکولوں میں چائنیز زبان سیکھنے کا سبجیکٹ شروع کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے لیے استاد موجود نہیں ہیں۔ چائنیز زبان سیکھنے کا پروگرام طلبہ کو ان کے کیریئر کے حوالے سے بڑے فوائد دے گا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہ مراد چانڈیو نے کہا کہ آج کی گلوبل دنیا میں کوئی چیز لوکل نہیں، جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ حاصل کرکے اپنے اسکلز بڑھانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکالرشپس کے حوالے سے چین بڑا ڈونر ہے، جو پوری دنیا کو لاکھوں اسکالرشپس کے مواقع دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مواقع سے فائدہ اٹھانے والوں میں پاکستانیوں، خصوصی طور پر سندھ کے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے، اس قسم کے آگاہی سیمینارز اور زبان سکھانے کے پروگراموں کے ذریعے اس تعداد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ آخر میں ایریا اسٹڈی سینٹر کے اسسٹنٹ پروفیسر اور چائنیز زبان سیکھنے کے پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر رونق علی بہن نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ اس تقریب کی کمپئیرنگ یونیورسٹی کے انٹرنیشنل ریلیشنز شعبے کی طالبہ شائمہ جتوئی نے کی۔ سیمینار میں ایریا اسٹڈی سینٹر کے اساتذہ ڈاکٹر مکیش کمار کھٹوانی، ڈاکٹر نورین منعاف اور ڈاکٹر ماجد علی نوناری نے شرکت کی۔