مقررین نے استاد بخاری کو عوامی احساسات اور جذبات کا ترجمان شاعر قرار دے دیا، بیسویں صدی کا ذکر ان کے بغیر نامکمل ہوگا: مقررین

جامعہ سندھ کے انسٹیٹیوٹ آف سندھالوجی کی جانب سے سندھ کے عوامی شاعر استاد بخاری کی برسی کے سلسلے میں ’’استاد بخاری کی شاعری میں موجود فکر کی دنیا‘‘ کے موضوع پر ایک لیکچر پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں نامور ادیب اور دانشور جامی چانڈیو نے خصوصی مہمان کی حیثیت سے شرکت کی اور موضوع کے حوالے سے لیکچر دیا۔ادارے کے پیر حسام الدین راشدی آڈیٹوریم میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامی چانڈیو نے استاد بخاری کی شخصیت اور شاعری پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیسویں صدی تحریکوں کی صدی ہے، جس کے اثرات ادب، شاعری، سیاست سمیت زندگی کے ہر شعبے پر مرتب ہوئے۔ اس صدی میں سندھی ادب میں نئے رجحانات اور ترقی پسند فکر کو فروغ ملا۔انہوں نے کہا کہ اس دور میں جہاں شیخ ایاز کی نئی امنگوں اور ولولوں سے بھرپور شاعری نے قومی فکر میں نئی روح پھونکی اور انہیں اپنے عہد کے سرکردہ شاعر کا مقام حاصل ہوا، وہیں اسی صدی میں استاد بخاری کی عوامی رنگ میں رنگی شاعری بھی گلی گلی اور گاؤں گاؤں پھیل گئی اور بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔جامی چانڈیو نے کہا کہ استاد بخاری ان کے والد کے قریبی دوست تھے اور دونوں نے دادو میں اکٹھے تدریسی خدمات انجام دیں۔ یہ ان کی خوش نصیبی ہے کہ انہیں استاد بخاری کے قریب رہنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ وہ شاعروں کے درمیان تقابل کے قائل نہیں ہیں۔ شیخ ایاز کی اپنی الگ شاعرانہ پرواز ہے، جبکہ استاد بخاری کا اپنا منفرد انداز ہے۔ دونوں نے اپنے اپنے رنگ میں اپنی شاعرانہ حیثیت کومنوایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ استاد بخاری رومانوی، انقلابی اور عقلی شاعر تھے۔ موسیقی سے وابستگی کے باعث ان کی شاعری میں موسیقیت نمایاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ استاد بخاری فطرتاً سادہ اور نفیس شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی شاعری دیہی عوامی رنگ میں رچی بسی ہے، یہی وجہ ہے کہ انہیں عوامی شاعر کے طور پر جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ ان کی شاعری آدرشوں سے بھرپور ہے، جبکہ ان کے اشعار میں فکر و تدبر کی ایک وسیع دنیا آباد ہے۔ بیسویں صدی کی سندھی شاعری کا ذکر استاد بخاری کے بغیر نامکمل رہے گا۔اس موقع پر استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے انسٹیٹیوٹ آف سندھالوجی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فیاض لطیف نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور لیکچر پروگرام کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ استاد بخاری جذبات اور احساسات کے شاعر ہیں۔ ان کی شاعری پڑھتے ہوئے زیادہ غور و فکر کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، کیونکہ ان کا کلام اس قدر واضح اور عوامی رنگ میں رنگا ہوا ہے کہ آنکھوں کے راستے دل میں اتر جاتا ہے اور ذہن پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ استاد بخاری کی شاعری لوگوں کے احساسات کی ترجمان اور ان کے دلوں کی آواز ہے۔ ڈاکٹر فیاض لطیف نے مزید کہا کہ ادارے کی جانب سے نامور شخصیات کو یاد کرنے کا مقصد نہ صرف ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے بلکہ نئی نسل، بالخصوص طلبہ کو ان کے کام اور کردار سے روشناس کرانا بھی ہے، تاکہ وہ ان کی زندگی اور خدمات سے تحریک اور رہنمائی حاصل کر سکیں۔ تقریب کے دوران نامور گلوکار استاد امیر علی خان، منصور علی عباسی اور الطاف راجا شاہ نے شاہ لطیف اور استاد بخاری کا کلام پیش کرکے حاضرین سے خوب داد حاصل کی۔ تقریب کی نظامت انسٹیٹیوٹ آف سندھالوجی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر غلام رسول چانڈیو نے انجام دی۔تقریب میں جامعہ سندھ کے مختلف شعبوں کے سربراہان اور نامور علمی و ادبی شخصیات نے شرکت کی، جن میں ڈاکٹر نور محمد شاہ، ڈاکٹر اسحاق سمیجو، ڈاکٹر نواب کاکا، ڈاکٹر ریحانہ ملاح، ڈاکٹر بھائی خان شر، علی دوست عاجز، عزیز گوپانگ، لیاقت رضوی، ناز سہتو، پروفیسر انور منصور منگریو، ڈاکٹر رشیدہ بھٹی، نور بالادی، منیر چانڈیو و دیگر شامل تھے۔

Author: Mrs. Shumaila Solangi 10/13/2026
Announcements
1024 x 768
مقررن استاد بخاري کي عوامي احساسن ۽ جذبن جو ترجماÙ...
View Details → 10/13/2026
1024 x 768
مقررین نے استاد بخاری کو عوامی احساسات اور جذبات Ú...
View Details → 10/13/2026
1024 x 768
Ustad Bukhari’s poetry is the voice of the people’s hearts, speakers say at SU lecture
View Details → 10/13/2026