جامعہ سندھ میں ’’تصوف کا عالمگیر پیغام اور عالمی امن‘‘ کے موضوع پر لیکچر پروگرام منعقد، معروف اسکالر نائلہ حیات نون نے لیکچر پیش کی

جامعہ سندھ کے شعبہ اینتھروپولوجی اینڈ آرکیالوجی کے زیرِ اہتمام ’’تصوف کا عالمگیر پیغام اور عالمی امن‘‘ (حضرت صوفی عنایت خان کی تعلیمات کی روشنی میں) کے موضوع پر ایک لیکچر پروگرام منعقد کیا گیا۔ معروف اسکالر اور حضرت صوفی عنایت خان کی تحریک ’’تصوف عالمگیر‘‘ کے جنوبی ایشیا چیپٹر کی ریپریزنٹیٹو نائلہ حیات نون نے مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوکر لیکچر پیش کیا۔

پروگرام کی صدارت جامعہ سندھ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری (تمغۂ امتیاز) کی جانب سے نامزد کردہ فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد خان سانگی نے کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نائلہ حیات نون نے قرآنِ پاک کی آیات اور احادیث کی روشنی میں اسلام میں تصوف کی شاندار روایات اور ورثے پر گفتگو کی۔ ان کے لیکچر کا مرکزی موضوع اپنی ذات کی تبدیلی، اصلاح اور شعور کی بیداری تھا۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ صوفیاء اپنی ذات کی اصلاح اور تبدیلی کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، جس کا مقصد معاشرے میں اصلاح اور بہتری لانا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تصوف کا بنیادی پیغام محبت، رواداری، امن، برداشت اور انسانیت کی خدمت ہے، جسے صوفیا نے پوری دنیا میں پھیلایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام امن اور رواداری کا مذہب ہے اور تصوف اسی پیغام کا پرچارک ہے۔

انہوں نے کہا کہ الٰہی شعور تصوف کی بنیاد ہے۔ تصوف انسان کو اپنی ذات کی اصلاح، شعور کی بیداری اور الٰہی محبت کے ذریعے امن اور ہم آہنگی کی طرف لے جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں مادہ پرستی، لالچ اور تشدد نے انسان کو انسانیت کی اصل فطری سرشت سے دور کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب انسان خدا کے عدل کی حقیقت، باہمی تعاون اور محبت کے قانون کو سمجھ لیتا ہے تو وہ دنیا اور دوسرے انسانوں کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ جب خود غرضی انسان کو ایسی صورتِ حال تک پہنچا دیتی ہے جہاں وہ سب کچھ کھو بیٹھتا ہے، تو اسے ایسی روحانی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے حقیقی محبت سے روشناس کرائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انسان کو تعصبات اور محدود سوچ کے دائرے سے باہر نکل کر شعور کی طاقت کو مثبت تبدیلی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ جب انسان مذہب کے باطنی اور روحانی پہلو کی طرف رجوع کرتا ہے تو وحدت، محبت اور مشترکہ انسانیت کا تصور زیادہ واضح ہو کر سامنے آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو محض صحیح اور غلط یا اچھے اور برے کے متضاد خانوں میں تقسیم کرنے کے بجائے وحدت کے تصور کو سمجھنے اور انسانی زندگی میں اس کی اہمیت کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔

فطرت کے تحفظ کے لیے تصوف کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خدا کی مخلوقات کے درمیان باہمی رشتے اور وابستگی کے تصور کو سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ کوئی بھی مخلوق تنہا اور دوسری مخلوقات سے الگ ہو کر کام نہیں کرتی۔

اس موقع پر انہوں نے حضرت علی علیہ السلام کے ایک قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے فرمایا کہ: ’’تمہارے درمیان دو طرح کے رشتے ہیں؛ یا تو تم ایمان میں ایک دوسرے کے بھائی ہو یا انسانیت میں ایک دوسرے کے برابر ہو۔‘‘ حضرت صوفی عنایت خان کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مخلوقات کے درمیان باہمی انحصار اور تعلقات کو اجاگر کیا، جو باہمی تعاون اور ہم آہنگی کا سبب بنتے ہیں۔ اپنے لیکچر میں انہوں نے شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے اس میں موجود تصوف کے پیغام پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے دریائے سندھ کو مختلف کمیونٹیز کو ایک دوسرے سے جوڑنے کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے سندھی رلی کی مثال بھی دی، جو مختلف رنگوں کے کپڑوں کے ٹکڑوں کو جوڑ کر تیار کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رلی اتحاد کی ایک خوبصورت مثال ہے۔

تقریب سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمد خان سانگی نے اہم موضوع پر لیکچر پروگرام منعقد کرنے پر شعبہ اینتھروپولوجی اینڈ آرکیالوجی کے چیئرمین اور ان کی ٹیم کو مبارک باد دی۔ انہوں نے وائس چانسلر ڈاکٹر فتح محمد مری کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے انہیں اس اہم پروگرام کی صدارت کا موقع فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایسے معاشرے میں جہاں عدم برداشت، کشیدگی، ذہنی انتشار اور سماجی بے چینی کے اثرات غالب ہوں، وہاں تصوف کے عالمگیر پیغام کو عام کرکے ماحول میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے اور بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوفیاء امن، محبت، رواداری اور برداشت کا درس دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جامعات کا کام صرف ڈگریاں دینا نہیں، بلکہ ایسے پروگراموں کے ذریعے شعور اور آگاہی کو فروغ دینا بھی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آج کا لیکچر شرکاء کے لیے مفید ثابت ہوگا۔

اس موقع پر جامعہ سندھ کے رجسٹرار ساجد قیوم میمن نے بھی موضوع کی مناسبت سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس سے قبل شعبہ اینتھروپولوجی اینڈ آرکیالوجی کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالرزاق چنا نے استقبالیہ خطاب میں تمام شرکاء کو خوش آمدید کہا اور لیکچر کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔

آخر میں فیکلٹی آف نیچرل سائنسز کی ڈین پروفیسر ڈاکٹر ناہید کاکا نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض شعبہ اینتھروپولوجی اینڈ آرکیالوجی کے استاد ڈاکٹر رفیق وسان نے نہایت خوبصورت انداز میں سرانجام دیے۔ انہوں نے اس موقع پر لیکچرکار نائلہ حیات نون کا تفصیلی تعارف بھی پیش کیا۔

پروگرام میں جامعہ سندھ کی مختلف فیکلٹیز کے ڈینز، پروفیسر ڈاکٹر نانک رام اور پروفیسر ڈاکٹر لچھمن داس دھوميجا سمیت مختلف شعبوں کے سربراہان، فیکلٹی ممبران، اساتذہ، افسران اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

 

Author: Mrs. Shumaila Solangi 10/19/2026
Announcements
1024 x 768
جامعہ سندھ میں ’’تصوف کا عالمگیر پیغام اور عالمی...
View Details → 10/19/2026
1024 x 768
سنڌ يونيورسٽي ۾ “تصوف جو عالمگير پيغام ۽ عالمي ام...
View Details → 10/19/2026
1024 x 768
University of Sindh Holds Distinguished Lecture on Universal Message of Sufism and World P...
View Details → 10/19/2026