سندھ یونیورسٹی میں یومِ سیاہ کشمیر کے حوالے سے قومی سمپوزیم منعقد، تاریخی، سیاسی اور انسانی حقوق کے پہلوؤں پر اظہارِ خیال
جامعہ سندھ جامشورو کے شعبہ پولیٹیکل سائنس کے زیرِ اہتمام 27 اکتوبر یومِ سیاہ کشمیر کے حوالے سے قومی سمپوزیم منعقد کیا گیا، جس میں مسئلہ کشمیر کے تاریخی پس منظر، سیاسی پہلوؤں اور انسانی بنیادوں پر اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ سمپوزیم کی صدارت فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر نانک رام نے کی. تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا، جس کی سعادت شعبہ عربی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نظر حسین چانڈیو نے حاصل کی۔
تقريب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر نانک رام نے کہا کہ 27 اکتوبر وہ سیاہ دن ہے جس دن ہے بھارتی فوج سری نگر میں داخل ہوئی۔ یومِ سیاہ کشمیر ہر سال کشمیریوں، پاکستانیوں اور دنیا بھر میں کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے حامیوں کی جانب سے منایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمپوزیم مسئلہ کشمیر کو تاریخی، سیاسی، قانونی اور انسانی پہلوؤں سے سمجھنے کے لیے ایک علمی پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔ مسئلہ کشمیر محض علاقائی دعوؤں کا تنازع نہیں، بلکہ اس میں عوامی رضامندی، خودمختاری، جمہوری نمائندگی اور عوام کے اپنے سیاسی مستقبل کے تعین میں حصہ لینے کے حق جیسے بنیادی سوالات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بھارتی مظالم انتہا پر پہنچ چکے ہیں، جنہیں روکنے کے لیے اقوام متحدہ کو اپنا فوری کردار ادا کرنا چاہیے. انہوں نے کہا کہ اس موضوع پر یونیورسٹی کی علمی سرگرمیاں صورتحال کو سمجھنے کے لیے تحقیقی مطالعے، تاریخی شعور اور باخبر عوامی مکالمے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ جامعہ سندھ کے پاکستان اسٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر شجاع احمد مہيسر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کی تاریخی جڑیں انیسویں صدی میں برطانوی نوآبادیاتی اقتدار کی توسیع سے وابستہ ہیں۔ پہلی اینگلو سکھ جنگ کے بعد 9 مارچ 1846ء کو معاہدۂ لاہور طے پایا، جبکہ 16 مارچ 1846ء کو برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے گلاب سنگھ کے ساتھ معاہدۂ امرتسر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے نے ریاست جموں و کشمیر میں ڈوگرہ حکمرانی کی بنیاد رکھی۔ اس معاہدے میں خطے کے عوام کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ان کی براہِ راست مشاورت کے بغیر نوآبادیاتی حکام اور ایک شاہی حکمران کے درمیان معاہدے کے ذریعے کیا گیا۔
ڈاکٹر مہيسر نے کہا کہ بھارتی فوج کے مظالم کا سلسلہ 27 اکتوبر 1947ء سے شروع ہوکر ابھی تک جاری ہے، جسے روکنے کی ضرورت ہے. شعبہ پولیٹیکل سائنس کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر غلام اکبر مہيسر نے مسئلہ کشمیر کے بین الاقوامی پہلوؤں، انسانی حقوق اور موجودہ صورتحال پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت دستاویزِ الحاق کو جموں و کشمیر پر اپنے دعوے کی قانونی بنیاد قرار دیتا ہے، جو سراسر جھوٹ پر مشتمل ہے. اس کی سیاسی اور قانونی حیثیت پر بہت سارے سوالات موجود ہیں. انہوں نے بتایا کہ مسئلہ کشمیر 1948ء میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش ہوا۔ سلامتی کونسل نے 21 اپریل 1948ء کو قرارداد نمبر 47 منظور کی، جس میں امن کی بحالی اور ریاست جموں و کشمیر کے الحاق کے معاملے پر آزادانہ اور غیر جانب دارانہ رائے شماری کے لیے حالات پیدا کرنے کی سفارش کی گئی جو نہ ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کو بھارت نے آئینی تبدیلیوں کے ذریعے جموں و کشمیر کی سابق خصوصی آئینی خودمختاری، جو آرٹیکل 370 کے تحت حاصل تھی، ختم کرنے کا عمل شروع کیا۔ جسے پاکستان اور کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے رد کرتے ہوئے اسے عوام کی رضامندی کے خلاف قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ حقِ خودارادیت مسئلہ کشمیر کے مباحثے کا مرکزی موضوع ہے۔ پاکستان اور کشمیری سیاسی قیادت ایسے حل کا مطالبہ کرتی ہیں جو کشمیری عوام کی امنگوں کی عکاسی کرے. سمپوزیم کی نظامت شعبہ پولیٹیکل سائنس کی لیکچرر بختاور تالپور نے کی۔ تقریب میں شعبہ پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم گلال، فیکلٹی ممبران اور طلبہ نے شرکت کی۔