جامعہ سندھ کی سینڈیکیٹ کا 211واں اجلاس، گزشتہ مالی سال کے بجٹ سمیت مختلف امور کی منظوری، رواں مالی سال کا 8926.373 ملین روپے کا بجٹ پیش

جامعہ سندھ جامشورو کی سینڈیکیٹ کا 211واں اجلاس وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری کی زیر صدارت ان کے دفتر میں منعقد ہوا، جس میں گزشتہ سال کے بجٹ اور سینڈیکیٹ کے 210ویں اجلاس کی کارروائی (منٹس) کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں مختلف شعبوں میں چیئرمین مقرر کرنے سمیت وائس چانسلر کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں اکیڈمک کونسل کے 45ویں اجلاس کے منٹس بھی منظور کیے گئے۔ سندھ یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ نے دو لاء کالجوں کو کام کرنے کی مشروط اجازت دیتے ہوئے تین کالجوں میں مختلف ڈگری پروگرامز کی منظوری دی۔ اجلاس میں گزشتہ مالی سال 25-2024ء اور رواں مالی سال 26-2025ء کے بجٹ، آمدنی اور اخراجات کی تفصیلات بھی پیش کی گئیں۔ ڈائریکٹر فنانس ذیشان احمد میمن نے سینڈیکیٹ اراکین کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے مالی سال 25-2024ء میں 1823.991 ملین روپے کی گرانٹ دی گئی، جبکہ رواں مالی سال 26-2025ء کے لیے 1769.786 ملین روپے کی گرانٹ دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے گزشتہ سال کے 2964 ملین روپے کے مقابلے میں رواں سال 3408.600 ملین روپے کی گرانٹ دی، جس پر وزیراعلیٰ سندھ، چیئرمین ایچ ای سی و دیگر متعلقہ حکام کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان کی کسی بھی یونیورسٹی کو صوبائی حکومتوں کی جانب سے بجٹ میں اتنا اضافہ نہیں دیا گیا جتنا سندھ حکومت نے ہماری یونیورسٹی پر مہربانی کی ہے۔ ڈائریکٹر فنانس نے بتایا کہ سندھ یونیورسٹی کی اپنی وسائل سے گزشتہ سال 3804.791 ملین روپے آمدنی رہی، جبکہ رواں سال یہ آمدنی کم ہو کر 3279.891 ملین روپے رہ گئی۔ یونیورسٹی کی آمدنی میں کمی اس لیے ہوئی کہ میرپورخاص کیمپس الگ یونیورسٹی بن گیا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال میں مجموعی آمدنی اور گرانٹ 8592.782 ملین روپے رہی، جبکہ جاری مالی سال کے دوران بجٹ کی لاگت 8458.277 ملین روپے رکھی گئی ہے۔ ڈائریکٹر فنانس کے مطابق رواں مالی سال کے دوران تنخواہوں کے لیے 4452.900 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ پنشن اور ملازمین کی ریٹائرمنٹ مراعات کے لیے 2354.155 ملین روپے مخصوص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تنخواہوں اور پنشن کے علاوہ دیگر اخراجات کے لیے 2119.318 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس طرح یونیورسٹی کی آمدنی سمیت وفاقی و صوبائی گرانٹس کو ملا کر کل بجٹ کا تخمینہ 8926.373 ملین روپے لگایا گیا ہے۔ ڈی ایف نے بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران بجٹ میں مجموعی خسارہ 468.096 ملین روپے رہے گا، جو کہ گزشتہ مالی سال کے 244.826 ملین روپے کے مقابلے میں 271.928 ملین روپے زیادہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر سندھ حکومت مدد کرے تو شماریاتی و مالی تجزیاتی مطالعہ کروا کر پنشن کا انڈومنٹ فنڈ قائم کیا جا سکتا ہے جس سے یونیورسٹی خسارے کو کم کر سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ سولرائزیشن پروجیکٹ شروع ہونے سے 100 ملین روپے کی بچت ہوگی اور باقی خسارہ بھی کم کر لیا جائے گا۔ ڈی ایف نے بتایا کہ یونیورسٹی کی سرمایہ کاری کا کل حجم 286 ملین روپے تھا جو اب بڑھ کر 972 ملین روپے تک پہنچ گیا ہے، جو ایک بڑی خوشخبری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنشن کی سرمایہ کاری بھی 118 ملین روپے تھی جو اب بڑھ کر 314 ملین روپے تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی زمین کا درست استعمال کرکے آمدنی بڑھانا چاہتے ہیں تاکہ فیس ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے ہر سال ہونے والے طلبہ کے ڈراپ آؤٹ کو روکا جا سکے۔ سندھ یونیورسٹی نے نیا نعرہ متعارف کرایا ہے کہ “کوئی بھی طالب علم فیس کے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی نہ چھوڑے”، اس مقصد کے لیے سندھ یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس فنانشل ایڈ آفس کو مزید فعال بنایا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مختلف تعلیمی شعبوں کو صرف اخراجات کا ذریعہ بننے کے بجائے آمدنی کا مرکز بننا ہوگا تاکہ ہر تعلیمی شعبہ اپنے اخراجات خود پورے کر سکے۔ اجلاس میں اراکین نے مالی حوالے سے کئی سوالات کیے جن کے ڈائریکٹر فنانس نے تسلی بخش جوابات دیے اور انہیں بتایا کہ 1947ء میں یونیورسٹی کے قیام کے بعد پہلی مرتبہ مادرِ علمی کا چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کے ذریعے آڈٹ کروایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 52 ملین روپے انکم ٹیکس کی مد میں بچائے گئے ہیں، محکمہ انکم ٹیکس نے یونیورسٹی پر بلاجواز 52 ملین روپے ٹیکس عائد کیا تھا، جس کے خلاف دائر کیا گیا مقدمہ وفاقی ٹریبونل میں جیت لیا گیا ہے۔

Author: Mrs. Shumaila Solangi 01/01/2026
Announcements
1024 x 768
سنڌ يونيورسٽي ۾ پاڪستاني فورسز سان يڪجهتي جي اظها...
View Details → 03/03/2026
1024 x 768
جامعہ سندھ میں پاکستانی فورسز کے ساتھ اظہار یکجہت...
View Details → 03/03/2026
1024 x 768
Rally at Sindh University expresses solidarity with Pakistani armed forces
View Details → 03/03/2026