جامعہ سندھ میں پاکستانی فورسز کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے شاندار ریلی نکالی گئی، پاک فوج کے حق میں اور افغان حکومت اور کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی کارروائیوں کے خلاف فلک شگاف نعرے

 جامعہ سندھ جامشورو میں پاکستانی فورسز کے ساتھ یکجہتی اور افغان حکومت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی کارروائیوں کے خلاف شاندار ریلی نکالی گئی، جس کے دوران افغان حکومت اور طالبان و ٹی ٹی پی کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے گئے۔ ریلی ایڈمنسٹریشن بلاک (اے سی ٹو) کے عقبی حصے سے شروع ہوئی، جس کی قیادت پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالستار شاہ، رجسٹرار ساجد قیوم میمن، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر نانک رام، ڈین فیکلٹی آف فارمیسی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی گھوٹو، ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ گریجویٹ اسٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر صائمہ قیوم میمن و دیگر نے کی۔ ریلی کی قیادت کرنے والوں کے ہاتھوں میں بینرز اور شریک اساتذہ، افسران و ملازمین کے ہاتھوں میں قومی پرچم تھے، جو نعرے لگاتے ہوئے جب اے سی ٹو کے مرکزی گیٹ پر پہنچے تو ریلی مظاہرے میں تبدیل ہوگئی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر عبدالستار شاہ نے کہا کہ پوری یونیورسٹی برادری ملک کی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کے دفاع کے لیے مسلح افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے سرحد پار حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں اور کسی بھی عدم استحکام کی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ رجسٹرار ساجد قیوم میمن نے کہا کہ پاکستان آرمی نے ہمیشہ بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ ملک کا دفاع کیا اور ہر جارحیت کا بھرپور جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم اندرونی و بیرونی خطرات کی صورت میں اپنی فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں کا فرض ہے کہ مشکل حالات میں اتحاد اور حوصلے کو فروغ دیں اور قومی سلامتی کے اداروں کی بھرپور حمایت جاری رکھیں۔ ترجمان جامعہ سندھ ڈاکٹر نادر علی مغیری نے کہا کہ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان مل کر پاکستانی سرحد پار کرتے ہوئے دہشت گردی کرتے رہے ہیں، جس کا مقصد سرحدی علاقوں میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہندوستان اور افغان حکومتوں کے درمیان گٹھ جوڑ موجود ہے، جس کا مقصد پاکستان کے خلاف دوسرا محاذ کھولنا ہے لیکن لگتا ہے کہ بھارت مئی 2025ء والا سبق بھول چکا ہے۔ انہوں نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ سرحد پار دہشت گردی کو روکنے کے لیے کردار ادا کرے اور کشیدگی کو مزید ہوا نہ دے تو بہتر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی قدیم ترین سندھ یونیورسٹی کے اساتذہ، افسران و ملازمین اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے رہیں گے، ضرورت پڑنے پر پاکستان کے لیے جانوں کا نذرانہ دیا جائے گا، یونیورسٹی مزید پرامن احتجاج کرے گی اور جارحیت کی ہر فورم پر مذمت کرے گی۔ انہوں نے افغان حکومت کو نمک حرام قرار دیتے ہوئے کہا کہ برسوں سے افغانوں کی مہمان نوازی کا صلہ آج دہشت گردی کی صورت میں دیا جا رہا ہے، افغان حکومت اور تحریکِ طالبان پاکستان کو مئی 2025ء میں بھارت کے خلاف پاکستان کی کی گئی کارروائیوں کو نہیں بھولنا چاہیے۔ ڈاکٹر عبدالرزاق چنہ نے دوحہ معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت اس معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کی پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر ٹی ٹی پی کے حملے افغان حکومت اور افغان طالبان کی سرپرستی میں جاری ہیں، جو دوحہ معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لے اور معاہدوں پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے دفاع میں افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف بمباری جاری رکھے گا، جس کی ہم بطور قوم حمایت کرتے ہیں، کیونکہ ملک کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ ذوالفقار علی رستمانی نے کہا کہ خطے میں امن ایک دوسرے کی خودمختاری کے احترام اور عدم مداخلت سے وابستہ ہے، پاکستان افغانستان کی سرزمین کا احترام کرتا رہا لیکن جواب میں افغان حکومت کی جانب سے تحریکِ طالبان پاکستان جیسی دہشت گرد تنظیم کو سرحد پار حملے کرنے کی سرپرستی جاری رہی، جس کے باعث پاکستان کو اپنے دفاع کا حق استعمال کرنا پڑا۔ انہوں نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ علاقائی سلامتی کے بارے میں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ سندھ کے اسٹیک ہولڈرز امن کے خواہاں ہیں لیکن قومی دفاع سب سے مقدم ہے، جس کے لیے ہم ہر وقت تیار رہیں گے۔ ریلی میں ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف کامرس اینڈ مینجمنٹ پروفیسر ڈاکٹر حاکم علی مہيسر، ڈائریکٹر بیورو آف اسٹیگس اجوید احمد بھٹی، ڈپٹی رجسٹرار ندیم بُٹ، میاں علیم پاشا مغل، منور راجڑ، داؤد چنڑ، میوو مالہی، محمد علی گھانگھرو، ارشد بھٹی، احمد علی کنبھار، محمد فضل رستمانی اور دیگر بھی موجود تھے۔ بعد ازاں مظاہرے میں شریک اساتذہ، افسران و ملازمین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

Author: Mrs. Shumaila Solangi 03/03/2026
Announcements
1024 x 768
سنڌ يونيورسٽي ۾ پاڪستاني فورسز سان يڪجهتي جي اظها...
View Details → 03/03/2026
1024 x 768
جامعہ سندھ میں پاکستانی فورسز کے ساتھ اظہار یکجہت...
View Details → 03/03/2026
1024 x 768
Rally at Sindh University expresses solidarity with Pakistani armed forces
View Details → 03/03/2026