شیخ الجامعہ سندھ ڈاکٹر مری کی جانب سے تعلیمی سال 2026ء کے نئے طلبہ کو اورینٹیشن تقریب میں خوش آمدید کہا گیا، تعلیم اور کیمپس زندگی میں توازن برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور

 شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری  نے گزشتہ روز جامعہ سندھ میں تعلیمی سال 2026ء کے تحت داخل نئے طلبہ و طالبات کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہا اور کہا کہ طلبہ کیمپس کی زندگی سے بھرپور لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اصل مقصد یعنی تعلیم کے حصول اور مطالعہ میں بھی آگے رہیں۔ مستقبل میں کامیابی کے لیے کیمپس لائف سے لطف اندوز ہونا اور محنت و مطالعہ میں توازن برقرار رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ اظہار بیورو آف اسٹوڈنٹس ٹیوٹوریل، گائیڈنس/کاؤنسلنگ سروسز اور کو-کرکیولر ایکٹیوٹیز (اسٹیگس) کی جانب سے فریش بیچ 2026ء کے طلبہ و طالبات کے لیے بینظیر کنونشن سینٹر کے مرکزی آڈیٹوریم ہال میں منعقدہ اورینٹیشن  پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں اساتذہ، انتظامی افسران اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔وائس چانسلر ڈاکٹر فتح محمد مری نے کہا کہ پورے ملک میں یونیورسٹی جانے کی عمر کے نوجوانوں میں سے صرف تقریباً 10 فیصد نوجوان ہی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلہ حاصل کر پاتے ہیں، جبکہ باقی 90 فیصد نوجوان محدود وسائل اور مالی گنجائش نہ ہونے کے باعث اس سنہری موقع سے محروم رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم میں طالبات کے داخلوں کا تناسب نہایت کم ہے اور ہر سال بمشکل صرف دو فیصد لڑکیاں ہی یونیورسٹیوں تک پہنچ پاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے والی لڑکیاں درحقیقت خوش نصیب ہیں۔سندھ یونیورسٹی کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کے بعد سندھ یونیورسٹی ملک کی سب سے بڑی اور ملک کی پہلی سرکاری یونیورسٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اورینٹیشن  کے دوران مقررین نے طلباء کے حقوق اور ذمہ داریوں پر گفتگو کی، یونیورسٹی طلبہ کو سہولیات اور خدمات فراہم کرتی ہے، جبکہ ان سہولیات سے فائدہ اٹھانا طلباء کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلباء کو اسکالرشپس کے ساتھ کلاس رومز، لیبارٹریز، لائبریری، کھیلوں، ہاسٹلز اور دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان سہولیات کے بدلے یونیورسٹی انتظامیہ صرف طلباء سے محنت، مطالعہ اور دل لگا کر پڑھنے کی امید رکھتی ہے۔ طلباء کو گھومنے پھرنے اور محنت سے پڑھنے میں توازن برقرار رکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے ڈاکٹر مری نے کہا کہ وہ چار سال کیمپس میں گزارنے کے دوران اچھے دوست بنائیں، کیمپس زندگی سے لطف اندوز ہوں مگر پڑھائی پر کبھی توجہ کم نہ کریں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ سیمسٹر امتحان میں بیٹھنے کے لیے کم از کم 75 فیصد حاضری لازمی ہے اور کم حاضری والے طلباء کو امتحان دینے کے لیے نااہل قرار دیا جائے گا۔ حالیہ اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی نے اپنی المنائی ایسوسی ایشن کا باضابطہ اعلان کیا ہے، جس میں گزشتہ 49 بیچز کے طلبہ نے شرکت کی، جو المنائی اور یونیورسٹی کے درمیان روابط مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ وائس چانسلر نے طلباء کو نصیحت کی کہ وہ اپنے مضامین کو سمجھنے کی کوشش کریں، پیشہ ورانہ صلاحیتیں پیدا کریں، تعلیمی مہارتیں حاصل کریں اور مہذب زندگی گزارنے کی طرف توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تہذیب موہن جو دڑو تک جاتی ہے، جو امیر اور مہذب ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے، سماجی اقدار کو برقرار رکھنا چاہیے اور محنت کو اپنی عادت بنانا چاہیے۔ رجسٹرار ساجد قیوم میمن نے طلباء کو آگاہ کیا کہ یونیورسٹی والدین پر مالی بوجھ کم کرنے کے لیے مختلف اسکالرشپس فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے ہاسٹلز میں تقریباً پانچ ہزار طلباء کی گنجائش ہے، جبکہ طالبات کے ہاسٹلز میں تین ہزار طالبات رہائش اختیار کرتی ہیں اور انتظامیہ سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ ڈائریکٹر انفارمیشن ٹیکنالوجی سروسز سینٹر ڈاکٹر کامران ڈاہری نے طلباء کو آئی ٹی سہولیات کے بارے میں بریفنگ دی، جس میں طلباء کے ای-پورٹلز، آن لائن نتائج کی فراہمی اور ڈیجیٹل چالان سسٹم شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیمپس میں وائی فائی سہولیات بڑھانے اور مزید آن لائن تعلیمی و انتظامی خدمات متعارف کرانے پر بھی کام جاری ہے۔ ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر نانک رام نے کہا کہ یونیورسٹی سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلباء کو جدید لائبریریوں تک رسائی، تحقیق اور فیلڈ ورک کے مواقع اور تجربہ کار اساتذہ کی رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے طلبہ کو قیادت اور رابطے کی مہارتوں کو بڑھانے کے لیے کو-کرکیولر سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کی تلقین کی۔ اسٹوڈنٹس فنانشل ایڈ آفس کے قمر نانگراج نے طلباء کو مختلف اسکالرشپ اسکیمز کے بارے میں آگاہ کیا اور ان سے فائدہ اٹھانے کے طریقہ کار پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ چیئرپرسن اینٹی ہراسمنٹ کمیٹی پروفیسر ڈاکٹر نسیم اسلم چنہ نے طلباء کو ہراسمنٹ کے حوالے سے یونیورسٹی کی زیرو ٹالرنس پالیسی سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث کسی بھی فرد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں داخلہ ختم کرنا بھی شامل ہے اور ایسے افراد کو ڈگری بھی نہیں دی جائے گی۔ اورینٹیشن  پروگرام کا اختتام موسیقی کی تقریب پر ہوا، جہاں نوجوان گلوکار فراز بھلائی اور دیگر فنکاروں نے اپنے گیتوں سے سامعین کو محظوظ کیا۔ نوجوانوں کے رقص اور سیٹیوں نے تقریب کو مزید رنگین بنا دیا۔ تقریب میں پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالستار شاہ، اجوید احمد بھٹی، ڈاکٹر مبارک لاشاری اور دیگر نے بھی شرکت کی۔

 

Author: Mrs. Shumaila Solangi 02/11/2026
Announcements
1024 x 768
سنڌ يونيورسٽي جي وي سي ڊاڪٽر مري پاران تعليمي سال ...
View Details → 02/11/2026
1024 x 768
سنڌ يونيورسٽي جي آخري سال جي شاگردن جا 136 تحقيقي م...
View Details → 02/11/2026
1024 x 768
شیخ الجامعہ سندھ ڈاکٹر مری کی جانب سے تعلیمی سال 20...
View Details → 02/11/2026