وفاقی وزیر کا جامعہ سندھ میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تحقیق کے لیے جدید لیبارٹری بنانے کا اعلان، معرکۂ حق میں شاندار کامیابی کے بعد اب معرکۂ معیشت پر توجہ دینی ہوگ
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان فورسز کی جانب سے معرکۂ حق میں شاندار کامیابی کے بعد اب عوام کو معرکۂ معیشت میں کامیاب ہونا ہے۔ جنگیں کامیابی سے تب لڑی جاتی ہیں، جب ملکی معیشت مضبوط ہو۔ جامعہ سندھ نے بے شمار دانشور اور اہلِ علم پیدا کیے ہیں، خوشی ہے کہ ایسی تاریخی یونیورسٹی میں دوسری بار نوجوانوں سے مخاطب ہوں۔ سندھ یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف میتھمیٹکس اینڈ کمپیوٹر سائنس کو شاندار آرٹیفشل انٹیلیجنس لیبارٹری کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈنگ دی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز جامعہ سندھ کے انسٹیٹیوٹ آف میتھمیٹکس اینڈ کمپیوٹر سائنس میں آخری سال کے طلبہ و طالبات کی تھیسز نمائش کا افتتاح کرنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ نمائش میں 133 تحقیقی منصوبے رکھے گئے، جن میں وفاقی وزیر نے گہری دلچسپی لی اور متعلقہ طلبہ و طالبات سے بریفنگ لی۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری، مملکتی وزیر کھیئل داس کوہستانی، مسلم لیگ (ن)کے رہنما شاہ محمود شاہ، سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن، ڈاکٹر ایاز کیریو و دیگر ان کے ہمراہ تھے۔ افتتاحی تقریب کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ دشمن نے رات کے وقت پاکستان پر حملہ کیا، لیکن پاکستان کا ردعمل اتنا تیز تھا کہ دنیا دیکھ کر دنگ رہ گئی۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط دفاع کے لیے مضبوط معیشت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری فوج معرکۂ حق میں سرخرو ہوئی اور اب قوم کی باری ہے کہ معرکۂ معیشت میں بھی کامیابی حاصل کر کے دکھائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد اس وقت کے کئی ارسطوؤں نے کہا کہ ملک زیادہ چل نہیں سکے گا، لیکن ہمارے بزرگوں نے محنت کر کے ثابت کیا کہ ثابت قدمی کے ذریعے ملک کو بحرانوں سے نکالنا کوئی مشکل کام نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بحران اس وقت پاکستان کو اس لیے درپیش تھے کہ تقسیم کے بعد ملک کو فنڈز کا جائز حصہ نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک میں رہنے والے 90 لاکھ پاکستانی ہر سال 40 ارب ڈالر پاکستان بھیجتے ہیں، جبکہ دوسری طرف 24 کروڑ عوام مل کر بھی سال میں تجارت اور محنت کے ذریعے 40 لاکھ ڈالر نہیں کما سکتے۔ انہوں نے کہا کہ 2 سال قبل ہر شخص کہہ رہا تھا کہ پاکستان خراب مالی حالات کے باعث جلد سری لنکا کی طرح ڈیفالٹ کر جائے گا، لیکن دنیا نے دیکھا کہ پاکستان گزشتہ 2 سال کے دوران کیسے دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوا ہے اور عالمی میڈیا بھی آج اس کی گواہی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پہلی بار بجلی آئی تو کئی صنعتی ادارے قائم ہوئے، انٹرنیٹ آنے سے دنیا گاؤں میں تبدیل ہوگئی، لیکن مصنوعی ذہانت نے تو دنیا ہی بدل دی ہے۔ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت کے بارے میں مہارتیں پیدا کرنی ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ جلد مصنوعی ذہانت لاکھوں نوکریاں ختم کرے گی لیکن کروڑوں نوکریاں پیدا بھی کرے گی۔ یہ نوکریاں ان کے لیے ہوں گی جن کے پاس ڈگری کے ساتھ مہارتیں بھی ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ تعلیمی ادارے جو صرف تدریس پر توجہ دے رہے ہیں اور تحقیقی عمل پر توجہ نہیں دیتے، انہیں یونیورسٹی نہیں بلکہ کالج کہنا چاہیے۔ یونیورسٹی کا مقصد ہی تحقیق کرنا اور نئی معلومات پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن یونیورسٹیوں کی لائبریری اور تجرباتی لیبارٹریاں رات 11 بجے کے بعد بھی کھلی نظر آئیں، سمجھو کہ وہاں تحقیقی کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن اساتذہ کے مقالے امپیکٹ فیکٹر جرنلز میں شائع ہوتے ہیں اور اس کا معاشرے کی بہتری میں کوئی عملی کردار نہیں، وہ مقالے کسی کام کے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ یونیورسٹی کے 40 ہزار طلبہ و طالبات کو متحرک ہونا ہوگا اور معاشرے کی بہتری کے لیے کام کرنا ہوگا۔ احسن اقبال نے پاکستان تحریک انصاف یا عمران خان کا نام لیے بغیر کہا کہ ان چار سالوں کے دوران ذاتی مفادات کے لیے کام کیا گیا اور ملک کو تباہ کیا گیا اور اس کے وسائل لوٹے گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خوشحال پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیل گئے اور ہم نے آ کر ملک کو دوبارہ ترقی کی راہ کی طرف لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ صدیوں کی تہذیب رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہاں بڑے بڑے ذہین لوگ پیدا ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ذہانت کی ابتدائی شکل نے سندھ سے ہی جنم لیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے اس دور میں جامعہ سندھ میں آرٹیفشل انٹیلیجنس ریسرچ لیبارٹری کی ضرورت ہے اور یہ لیبارٹری بنانے میں سندھ یونیورسٹی کی مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ترقیاتی کام ادھورے رہ گئے ہیں، جنہیں فوری طور پر مکمل کرانے کے لیے وفاقی وزیر کردار ادا کریں۔ قبل ازیں اپنے استقبالیہ خطاب میں ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف میتھمیٹکس اینڈ کمپیوٹر سائنس ڈاکٹر ایاز کیریو نے اپنے ادارے کے کام کاج کے بارے میں مہمانوں کو آگاہ کیا۔