آئرش مفکر جارج برنارڈ شا کی تصنیف “خدا کی تلاش میں کالی دوشیزہ کے سفر” کے جواب میں لکھی گئی علامہ آئی آئی قاضی کے ناول “خدا کی تلاش میں بھوری لڑکی کے سفر” کے فلسفیانہ پہلوؤں پر تفصیلی لیکچر

 علامہ آئی آئی قاضی چیئر جامعہ یونیورسٹی جامشورو کی جانب سے نامور مفکر، تعلیمی رہنما اور جامعہ سندھ کے بانی وائس چانسلر علامہ آئی آئی قاضی کے فکری شاہکار ناول “خدا کی تلاش میں بھوری لڑکی کے سفر” پر ایک جامع اور علمی لیکچر آرٹس فیکلٹی کے شیخ ایاز آڈیٹوریم میں منعقد کیا گیا، جس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری نے کہا کہ سندھی فکر عالمی ادب کے ساتھ مکالماتی وابستگی کی بہترین مثال ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ علامہ قاضی کے ناول کو آج کے جدید دور میں پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ آج کی دنیا میں بھی انسان سچائی، امن اور روحانی اطمینان کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ آئی آئی قاضی کے فکری شاہکار ناول “خدا کی تلاش میں بھوری لڑکی کے سفر” کو دوبارہ سندھ یونیورسٹی کے بیورو آف ٹرانسلیشن اور علامہ آئی آئی قاضی چیئر کے ذریعے دوبارہ سندھی اور اردو میں شائع کیا جائے گا، ضرورت پڑی تو اسے انگریزی میں بھی دوبارہ شائع کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے علمی پروگرام نوجوان نسل کو فکر کی گہرائی سے روشناس کراتے ہیں اور انہیں تنقیدی سوچ کی طرف راغب کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہوئی کہ پورے لیکچر کے دوران طلبہ اور طالبات بیٹھے رہے اور پرامن اور پرسکون انداز میں ناول کے بارے میں آگاہی حاصل کی، انہوں نے کہا کہ طلبہ ایسے پروگراموں میں ضرور شرکت کریں لیکن تھوڑا وقت بیٹھ کر پھر باہر آنے جانے کے بجائے سکون سے مقررین کو سنیں اور علم حاصل کریں۔ اس موقع پر سابق بیوروکریٹ اور محقق اکبر لغاری نے اپنے لیکچر میں ناول کی ادبی اہمیت کے ساتھ اس کے فلسفیانہ اور روحانی پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ علامہ آئی آئی قاضی کا مذکورہ ناول مشہور آئرش مفکر جارج برنارڈ شا کی تصنیف “خدا کی تلاش میں کالی دوشیزہ کے سفر” کے فکری تسلسل کے جواب کے طور پر لکھا گیا ہے، لیکن اس کا دائرہ بہت وسیع اور گہرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں برنارڈ شا نے مغربی مذہبی خیالات پر تنقیدی انداز اختیار کیا، وہاں علامہ قاضی نے مشرق کی روحانیت اور اسلامی فکر کو بنیاد بنا کر خدا کی تلاش کو مثبت اور تعمیری رخ دیا۔ اکبر لغاری نے مزید کہا کہ “براؤن گرل” یا بھوری ناری کا کردار دراصل انسان کی علامت ہے، وہ انسان وجود کے معنی، خدا کی حقیقت اور زندگی کے مقصد کے بارے میں سوال لے کر سفر پر نکلتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ناول میں وجودیت، تصوف، توحید اور اخلاقی فلسفے کے عناصر نمایاں نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علامہ قاضی نے عقل اور ایمان کے درمیان تنازع کو سلجھانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ ناول میں عقل کو رد نہیں کیا گیا، بلکہ اسے روحانیت کے ساتھ ہم آہنگ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خدا کی تلاش صرف منطقی بحث تک محدود نہیں، بلکہ یہ انسان کے اندرونی شعور، وجدان اور اخلاقی شعور سے بھی متعلق ہے۔ اکبر لغاری نے کہا کہ علامہ قاضی کا ناول مشرق اور مغرب کی فکر کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ علامہ قاضی مغربی فلسفے کے سوالات کو قبول کرتے ہوئے ان کے جوابات مشرق کی صوفیانہ روایت میں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ناول میں وحدت الوجود، انسانی برابری اور عالمی بھائی چارے کا پیغام دیا گیا ہے، جو آج کے دور میں نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ناول میں اخلاقی فلسفے کو بھی اہم مقام دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خدا کی تلاش صرف مابعدالطبیعاتی بحث نہیں، بلکہ یہ انسان کی عملی زندگی سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، محبت، سچائی اور انسانیت ناول کی مرکزی اقدار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ علامہ قاضی کا پیغام یہ ہے کہ حقیقی خدا شناسی انسان کے کردار اور عمل میں ظاہر ہوتی ہے۔ مقرر اکبر لغاری نے کہا کہ “خدا کی تلاش میں بھوری ناری کے سفر” نہ صرف ایک ادبی شاہکار ہے بلکہ فکر اور روحانیت کا ایسا سرچشمہ ہے جو قاری کو اپنے وجود کی سچائی سے روبرو کراتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس ناول کو دوبارہ سندھی اور اردو میں شائع کرنے کی ضرورت ہے اور کہا کہ اس ناول کو علمی مباحث کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ نوجوان نسل کو مشرق اور مغرب کی فکر کے سنگم سے روشناس کرایا جا سکے۔ مقرر کا مزید کہنا تھا کہ علامہ آئی آئی قاضی کا یہ ناول دراصل آئرش مفکر اور ڈراما نگار جارج برنارڈ شا کی کتاب “خدا کی تلاش میں کالی لڑکی کے سفر” کے فکری سنگت اور ادبی مکالمہ ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ برنارڈ شا نے اپنی تصنیف میں مغربی مذہبی تصورات پر تنقیدی اور طنزیہ انداز اختیار کیا، جبکہ علامہ قاضی نے مشرق کی روحانیت، اسلامی فکر اور صوفیانہ روایات کی روشنی میں اس بحث کو زیادہ تعمیری رخ دیا۔ سابق بیوروکریٹ نے کہا کہ “براؤن گرل” کا کردار علامتی حیثیت رکھتا ہے، جو مشرق کی نمائندگی کرتے ہوئے خدا کی تلاش میں نکلتی ہے۔ اس سفر کے دوران وہ مختلف مذہبی نظریات، فلسفیانہ دلائل اور فکری مکاتب سے روبرو ہوتی ہے۔ مقرر کے مطابق علامہ قاضی کا ناول محض ایک ادبی تخلیق نہیں بلکہ فکر کی آزادی اور سوال کرنے کی جرات کا پیغام ہے۔ لیکچر میں مزید بتایا گیا کہ علامہ قاضی نے اپنے ناول میں انسانی عقل، ایمان، وجدان اور روحانیت کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب اپنے قاری کو اندرونی سچائی سے ملاقات کراتی ہے اور خدا کی تلاش کو محض رسمی عبادت نہیں بلکہ فکری اور اخلاقی جستجو کے طور پر پیش کرتی ہے۔ لیکچر کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا، جس کے دوران طلبہ اور طالبات نے مختلف فکری اور فلسفیانہ سوالات پیش کیے، جن کے مقرر نے تفصیلی جوابات دیے۔ اس موقع پر ڈین فیکلٹی آف آرٹس ڈاکٹر محمد خان سانگی، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنس پروفیسر ڈاکٹر نانک رام، ڈائریکٹر علامہ آئی آئی قاضی چیئر ڈاکٹر رشداللہ شاہ المعروف مخمور بخاری، معروف صحافی و دانشور نیاز پنہور، ڈاکٹر عرفانہ ملاح، جمال الدین، راجہ الطاف، محبوب لغاری، ڈاکٹر شمیل، ڈاکٹر ذوالفقار لغاری، ڈاکٹر انور حسین، ڈاکٹر عبدالحمید پنہور، ڈاکٹر سوجومل، ڈاکٹر مبارک علی لاشاری، ڈاکٹر طارق عمرانی، ڈاکٹر ثناء اللہ انصاری، ڈاکٹر شازیہ پتافی، ڈاکٹر ریحانہ ملاح، امر سندھو، ڈاکٹر وزیر علی بلوچ، فہمیدہ نارائی، عصمت خلیلی، حسام میرانی، ڈاکٹر سکندر علی سومرو، ڈاکٹر احمد علی بروہی، ڈاکٹر شاہ مراد چانڈیو، منیر چانڈیو اور دیگر کئی ادیب، دانشور، اسکالر، اساتذہ و افسران موجود تھے۔

 

Author: Mrs. Shumaila Solangi 02/26/2026
Announcements
1024 x 768
Allama Kazi’s novel inspires critical thinking, spiritual reflection among Sindh Univers...
View Details → 02/26/2026
1024 x 768
آئرش مفڪر جارج برنارڊ شا جي تصنيف “خدا جي تلاش ۾ ڪ...
View Details → 02/26/2026
1024 x 768
آئرش مفکر جارج برنارڈ شا کی تصنیف “خدا کی تلاش می...
View Details → 02/26/2026