جامعہ سندھ نے موسم گرما کی تعطیلات کے بعد نیچرل سائنسز فیکلٹی میں تدریسی سرگرمیوں کو مزید منظم، معیاری اور طلباء دوست بنانے کے لیے جامع حکمت عملی کو حتمی شکل دے دی؛ معیاری تعلیم کی فراہمی، طلباء کی سہولیات میں اضافے اور نظم و ضبط پر عمل درآمد کا بھی فیصلہ، تعلیمی سرگرمیوں کے بہترین آغاز کے لیے تیاری مکمل کریں اور یقینی بنائیں کہ تدریسی شیڈول پر جامعہ کے تعلیمی کیلنڈر کے مطابق سختی سے عمل کیا جائے، وائس چانسلر ڈاکٹر فتح مری کا اظہار

جامعہ سندھ انتظامیہ نے موسم گرما کی تعطیلات کے بعد نیچرل سائنسز فیکلٹی کی تدریسی سرگرمیوں کو مزید منظم، معیاری اور طلباء دوست بنانے کے لیے جامع حکمت عملی کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اس سلسلے میں تعلیمی نظم و ضبط، معیاری تدریس، طلباء کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے اور سازگار تعلیمی ماحول کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اس حوالے سے گزشتہ روز شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری (ٹی آئی) کی زیر صدارت نیچرل سائنس فیکلٹی کے ڈین آفس میں فیکلٹی کے مختلف تدریسی شعبوں کے چیئرپرسنز اور ڈائریکٹرز کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں موسم گرما کی تعطیلات کے بعد نئے تعلیمی سیشن کے آغاز کے حوالے سے تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ تعطیلات ختم ہوتے ہی دوسرے سیمسٹر کی باقاعدہ کلاسز بغیر کسی تاخیر کے پہلے ہی روز سے شروع کر دی جائیں گی۔ اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ طلباء کو ہر ممکن سہولت فراہم کرکے انہیں بغیر کسی رکاوٹ کے بہترین تعلیمی ماحول مہیا کیا جائے گا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری نے تمام شعبوں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ وہ تعلیمی سرگرمیوں کے بہتر طریقے سے آغاز کے لیے تیاری مکمل کریں اور یقینی بنائیں کہ تدریسی شیڈول پر جامعہ کے علمی کیلنڈر کے مطابق سختی سے عمل کیا جائے۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ روزانہ دفتری وقت ختم ہونے تک اپنے دفاتر میں موجود رہیں تاکہ طلباء کو ہر وقت تعلیمی اور تحقیقی رہنمائی، مشاورت اور ذہنی تربیت کی سہولیات میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ استاد کا کردار صرف کلاس روم تک محدود نہیں ہے بلکہ طلباء کی تعلیمی، تحقیقی و پیشہ ورانہ نشوونما میں مسلسل رہنمائی کرنا بھی اس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ وائس چانسلر نے کہا کہ جامعہ میں ایسا سازگار تعلیمی ماحول پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جو طلباء میں تنقیدی سوچ، سائنسی تحقیق، تخلیقی صلاحیتوں اور جدت کو فروغ دے۔ انہوں نے شعبوں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ وہ اساتذہ کو جدید تدریسی طریقے اختیار کرنے، لیبارٹری کی بنیاد پر سیکھنے کے عمل کو مزید مضبوط بنانے، تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور طلباء کو سائنسی منصوبوں، تحقیقی مقابلوں اور تعلیمی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کے لیے حوصلہ افزائی کریں۔ڈاکٹر مری نے وقت کی پابندی، تعلیمی نظم و ضبط اور کلاسز میں باقاعدہ حاضری کو بھی انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عناصر تعلیمی معیار کو بلند کرنے اور جدید سائنسی و ٹیکنالوجی چیلنجز کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے قابل گریجویٹس تیار کرنے کے لیے لازمی ہیں۔ انہوں نے شعبوں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ وہ جامعہ کھلنے سے قبل اپنے شعبوں کی تمام ضروریات واضح کریں اور لیبارٹریوں، کلاس رومز، تدریسی سامان اور دیگر تعلیمی وسائل کی مکمل دستیابی کو یقینی بنائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اساتذہ اور طلباء کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے اور تعلیمی معاملات کے بروقت حل کے لیے جامعہ انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جائے۔ اجلاس میں شریک افراد نے جامعہ کی تعلیمی پالیسیوں پر مکمل عمل درآمد، باہمی تعاون سے معیاری تعلیم کی فراہمی اور طلبہ کے لیے سازگار، تحقیقی اور فکری ماحول پیدا کرنے کے عزم کا دوبارہ اعادہ کیا۔اجلاس میں ڈین فیکلٹی آف نیچرل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر ناہید کاکا، ڈائریکٹر کوالٹی انہانسمنٹ سیل ڈاکٹر الطاف نظامانی، ڈاکٹر عرفانہ ملاح، ڈاکٹر فرحت نورین، ڈاکٹر رفعت سلطانہ، ڈاکٹر خالد حسین لاشاری، ڈاکٹر ریاض مری، ڈاکٹر سرفراز حسین تنیو، ڈاکٹر ایاز کیریو، ڈاکٹر امتیاز کوریجو، ڈاکٹر رابعہ میمن، ڈاکٹر ذوالفقار علی لغاری، ڈاکٹر پنھل خان لاشاری اور نیچرل سائنسز فیکلٹی کے مختلف تدریسی شعبوں کے سربراہان نے شرکت کی۔

Author: Mrs. Shumaila Solangi 07/22/2026
Announcements
1024 x 768
سنڌ يونيورسٽيءَ اونهاري جي موڪلن کانپوءِ نيچرل س...
View Details → 07/22/2026
1024 x 768
جامعہ سندھ نے موسم گرما کی تعطیلات کے بعد نیچرل سا...
View Details → 07/22/2026
1024 x 768
Sindh University finalizes academic strategy for Natural Sciences Faculty as classes set t...
View Details → 07/22/2026