سندھ یونیورسٹی میں نامور ادیبہ پروفیسر خیرالنساء جعفری کی یاد میں تقریب منعقد، وائس چانسلر ڈاکٹر فتح محمد مری نے صدارت کی
سندھ یونیورسٹی میں نامور افسانہ نگار، نقاد، سفرنامہ نگار اور شعبۂ نفسیات کی سابق چیئرپرسن پروفیسر خیرالنساء جعفری کی یاد میں ایک تقریب منعقد کی گئی، جس کی صدارت سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری (تمغۂ امتیاز) نے کی، جبکہ نامور ادیب جامی چانڈیو مہمانِ خصوصی تھے۔
سندھی ادبی سنگت، سندھ یونیورسٹی برانچ کی جانب سے بیورو آف اسٹیگس کے تعاون سے آرٹس فیکلٹی بلڈنگ کے شیخ ایاز آڈیٹوریم میں منعقدہ اس تقریب کے اعزازی مہمانوں میں یونیورسٹی کے شعبۂ انگریزی کی استاد اور پروفیسر خیرالنساء جعفری کی صاحبزادی ڈاکٹر صائمہ جعفری، مرزا قلیچ بیگ چیئر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نواب کاکا اور نامور ادیبہ گلبدن جاوید مرزا شامل تھے۔
اس موقع پر صدارتی خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر فتح محمد مری نے کہا کہ پروفیسر خیرالنساء جعفری ایک منفرد شخصیت کی مالک تھیں اور ان کی یہی انفرادیت ان کی تحریروں میں بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ ایک استاد کی حیثیت سے شعبۂ نفسیات میں ان کی شاندار خدمات دیگر اساتذہ کے لیے ایک مثال کی حیثیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آپا خیرالنساء سے مختلف تقریبات میں کئی ملاقاتیں ہوئیں اور انہیں قریب سے سننے کا موقع بھی ملا۔ وہ جس بردباری سے لکھتی تھیں، اسی وقار کے ساتھ گفتگو بھی کرتی تھیں۔ خواتین ان کی تحریروں اور تقاریر کا بنیادی موضوع ہوتی تھیں۔ وہ خواتین کو نہ صرف مضبوط اور بااختیار دیکھنا چاہتی تھیں بلکہ اس مقصد کے حصول کے لیے عملی کردار بھی ادا کرتی تھیں۔
وائس چانسلر نے حیدرآباد کی ایک ہوٹل میں منعقدہ ادبی تقریب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس تقریب کی صدارت آپا خیرالنساء جعفری کر رہی تھیں، جہاں انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز ان الفاظ سے کیا تھا کہ ’’عورت مضبوط ہے، اسے کمزور سمجھنے والے خود کمزور ہیں۔‘‘ یہ جملہ اور وہ منظر مجھے آج بھی اچھی طرح سے یاد ہے.
وائس چانسلر نے کہا کہ ایسی شخصیات ہمارے ادب اور معاشرے کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ہمیں ان کے کردار سے رہنمائی حاصل کرنے اور ان کے کام کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
طلباء سے مخاطب ہوتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ وہ باقاعدگی سے اپنی کلاسیں لیں اور محنت کے ذریعے اپنی منزل حاصل کریں۔ ایک استاد کی حیثیت سے آپا خیرالنساء کا بھی یہی مشن اور خواب تھا۔ انہوں نے کہا کہ حاضری کے معاملے میں کسی قسم کی رعایت کی گنجائش نہیں ہے۔ جن طلبہ کی فیس واجب الادا ہے، انہیں امتحان میں بیٹھنے کا موقع دیا جا سکتا ہے، لیکن کم حاضری والے طلبہ کو امتحان میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کا پورا نظام آن لائن ہو چکا ہے۔ اساتذہ اپنے شعبوں کے طلباء کی روزانہ کی بنیاد پر حاضری اپ لوڈ کرتے ہیں، جبکہ کم حاضری والے طلباء کے والدین کو ای پورٹل پر پیغامات بھیجنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ وائس چانسلر نے بہترین تقریب منعقد کرنے پر سندھی ادبی سنگت اور بیورو آف اسٹیگس کی ٹیم کی کاوشوں کو بھی سراہا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جامی چانڈیو نے کہا کہ آپا خیرالنساء، آپا خیرو اور گڈی ان کی شخصیت کے حوالے سے پہچان کے مختلف نام ہیں۔ وہ ایک زندہ دل شخصیت تھیں اور جیسا محسوس کرتی تھیں، ویسا ہی لکھتی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ آپا خیرو طبیعت کے اعتبار سے نہایت سادہ اور انتہائی حساس تھیں۔ انہوں نے شعوری طور پر کسی انسان کو تو درکنار، کسی جانور کو بھی کبھی تکلیف نہیں پہنچائی۔ کھانا پکاتے وقت وہ گھر والوں کے ساتھ جانوروں کے لیے بھی کھانا تیار کرتی تھیں، جو ان کے دروازے کی دہلیز پر انتظار میں بیٹھے ہوتے تھے۔ جامی چانڈیو نے کہا کہ آپا خیرالنساء نے شاہکار افسانے تخلیق کیے، جن کی زبان، لاڑی لہجہ اور منظر نگاری شاندار ہے۔ ان کی نثر میں طنز کے ساتھ مزاح کا عنصر بھی موجود ہے۔
انہوں نے ان کے مشہور افسانے ’’تخلیق کا موت‘‘ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی اپنی کہانی ہے، جس میں نہ صرف ان کے ماموں کا دلچسپ کردار شامل ہے بلکہ ان کی والدہ اور خود ان کا اپنا کردار بھی موجود ہے۔ یہ افسانہ پڑھتے ہوئے جہاں لبوں پر مسکراہٹ آ جاتی ہے، وہیں آنکھیں بھی نم ہو جاتی ہیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر صائمہ جعفری نے اپنی والدہ کی خوبصورت یادیں تازہ کرتے ہوئے انہیں ایک مثالی ماں قرار دیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نواب کاکا اور گل بدن جاوید مرزا نے پروفیسر خیرالنساء جعفری کو ایک بہترین افسانہ نگار اور اعلیٰ شخصیت کی مالک قرار دیا اور ان کی تحریروں کو سندھی ادب کا عظیم سرمایہ قرار دیا۔
تقریب کے آغاز میں سندھی ادبی سنگت، سندھ یونیورسٹی شاخ کے سیکریٹری حسن مجتبیٰ نے استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے تمام شرکاء کو خوش آمدید کہا اور پروگرام کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔ تقریب کی نظامت منٹھار منگریو نے کی۔
تقریب میں فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر نانک رام، ڈائریکٹر اسٹیگس اجوید احمد بھٹی، ڈاکٹر سنتوش کمارانی، ڈاکٹر حمیرہ ہکڑو، ڈاکٹر نویدہ کٹپر، لیاقت رضوی، فہیم نوناری، ڈاکٹر عرفان شیخ، رابیلہ ابڑو سمیت طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔