سندھ یونیورسٹی میں ’’سماجی نظر سے آگے‘‘ کے موضوع پر فورم کا انعقاد، وائس چانسلر اور کمشنر حیدرآباد نے افتتاح کیا

سندھ یونیورسٹی کے شعبۂ سوشیالوجی کے زیرِ اہتمام ’’سماجی  نظر سے آگے‘‘ کے موضوع پر ایک فورم منعقد کیا گیا، جس کا افتتاح سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری (تمغۂ امتیاز) اور کمشنر حیدرآباد فیاض حسین عباسی نے مشترکہ طور پر کیا۔

یونیورسٹی کی فیکلٹی آف آرٹس کے لان میں یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کے طلبہ کی جانب سے تعلیم، صحت، غربت، بے روزگاری، خوراک، صاف پانی اور دیگر سماجی مسائل سمیت مختلف موضوعات پر تحقیقی منصوبوں کے پوسٹر پریزنٹیشن کارنر قائم کیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کی جانب سے ثقافتی اشیا، دست کاری کی مصنوعات اور کتابوں وغیرہ کے اسٹالز بھی لگائے گئے تھے، جبکہ ریسکیو 1122 کی جانب سے ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے حوالے سے آگاہی اسٹال بھی قائم کیا گیا تھا۔

وائس چانسلر اور کمشنر نے مشترکہ طور پر مختلف کارنرز اور اسٹالز کا دورہ کیا اور طلبہ اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں سے ان کے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ لی۔ فورم میں طلبہ کو انٹرن شپ اور روزگار فراہم کرنے والے سماجی اور صنعتی اداروں کے نمائندوں سے ملاقات کرنے، انٹرویو دینے اور اپنی سی وی جمع کرانے کا موقع بھی فراہم کیا گیا۔ اس موقع پر مختلف موضوعات پر مبنی ڈسکشن سیشنز بھی منعقد کیے گئے، جن میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور شرکاء کے سوالات کے جوابات دیے۔

شعبۂ سوشیالوجی کے چیئرمین ڈاکٹر احمد علی بروہی کی سربراہی میں فورم کی آرگنائیزنگ ٹیم میں ڈاکٹر امیر علی ابڑو، ڈاکٹر غزالہ پنہور، ڈاکٹر نیاز احمد بھٹو، ڈاکٹر شبانہ تنيو، ڈاکٹر اعجاز احمد وساڻ اور عدیل خان بروہی شامل تھے۔

اس موقع پر صدارتی خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری نے کہا کہ اس نوعیت کے پروگرام طلبہ کی خوداعتمادی میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی جانب سے معاشرتی مسائل اور اہم موضوعات پر تیار کیے گئے تحقیقی پوسٹرز اور منصوبے دیکھ کر انہیں بے حد خوشی ہوئی ہے۔ نوجوانوں کی جانب سے کی جانے والی یہ تحقیق سماجی مسائل کی وجوہات سمجھنے، ان کے حل تلاش کرنے اور ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ہر قسم کے سماجی مسئلے کو تعلیمی شعور میں اضافے اور اس کے فروغ کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے، جبکہ یونیورسٹیوں کے طلبہ اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹیوں کا کام صرف ڈگریاں فراہم کرنا نہیں بلکہ طلبہ میں شعور پیدا کرنا اور ان کے ذریعے معاشرے کو فائدہ پہنچانا بھی ہے۔

وائس چانسلر نے شعبۂ سوشیالوجی کے چیئرمین اور ان کی ٹیم کو کامیاب فورم کے انعقاد پر مبارک باد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ فورم طلبہ کے علم اور صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی، سماجی اداروں اور صنعتی شعبے کے درمیان رابطوں اور تعاون کو بھی مضبوط بنائے گا۔

انہوں نے کہا کہ آج کے پروگرام میں مختلف سماجی تنظیموں اور صنعتی اداروں کے نمائندوں نے سندھ یونیورسٹی کے طلبہ کی قابلیت اور صلاحیتوں کا خود مشاہدہ کیا ہے۔ ان اداروں کو چاہیے کہ وہ طلبہ کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ان کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کریں۔

اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کمشنر حیدرآباد فیاض حسین عباسی نے وائس چانسلر اور ان کی ٹیم کو مبارک باد دی اور طلبہ کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے تحقیقی منصوبے شاندار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس انداز میں اس پروگرام میں سماجی تنظیموں اور مختلف اداروں کو شامل کیا گیا ہے، اسے دیکھ کر انہیں امید ہے کہ یہ فورم طلبہ کو اپنے کیریئر کے حوالے سے بھرپور مواقع اور معاونت فراہم کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے طلبہ اور سماجی تنظیموں کے درمیان قائم ہونے والا رابطہ، تعلیم مکمل کرنے کے بعد طلبہ کے پیشہ ورانہ مستقبل کے لیے مفید ثابت ہوگا۔

اس موقع پر فیکلٹی آف آرٹس کی عمارت میں واقع شیخ ایاز آڈیٹوریم میں پینل ڈسکشن بھی منعقد کیا گیا، جس میں مختلف سماجی تنظیموں، اداروں اور صنعتی شعبے سے وابستہ ممتاز شخصیات نور محمد بجیر، منصور احمد، ڈاکٹر سورٹھ مہر، آصف علی، عابد حسین لاشاری، ڈاکٹر امتیاز احمد پیرزادہ، شکیل منور ابڑو اور دیگر نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

فورم کے دوران یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق اور معاشرے کی حقیقی ضروریات کے درمیان روابط مضبوط بنانے، تحقیقی نتائج کو ترقیاتی منصوبوں میں بروئے کار لانے اور تعلیمی اداروں، صنعتوں اور سماجی تنظیموں کے درمیان باہمی تعاون بڑھانے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

فورم میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ جلد ہی یونیورسٹی انتظامیہ، سماجی تنظیموں اور صنعتی اداروں کے درمیان ایک اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس میں باہمی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے لائحۂ عمل تیار کیا جائے گا، تاکہ سندھ یونیورسٹی کے طلبہ ان روابط سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔

 

Author: Mrs. Shumaila Solangi 10/29/2026
Announcements
1024 x 768
سنڌ يونيورسٽي ۾ “سماجي نظر کان اڳتي” جي موضوع تي ...
View Details → 10/29/2026
1024 x 768
سنڌ يونيورسٽي ۾ فزيڪل ٿراپي فيسٽيول منعقد، وائيس ...
View Details → 10/29/2026
1024 x 768
سندھ یونیورسٹی میں ’’سماجی نظر سے آگے‘‘ کے موضو...
View Details → 10/29/2026